اہم نکات:احساسِ امید پروگرام کا قیام: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے مستحق خصوصی افراد کی معاشی کفالت کے لیے ’احساسِ امید‘ کے نام سے نیا فلاحی پروگرام شروع کر دیا۔ماہانہ مالی معاونت: اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں 9 ہزار 298 شدید معذور افراد کو بلا ناغہ 5 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جائے گا۔ڈیجیٹل اور شفاف سروے: ای-ڈس ایبلٹی (E-Disability) سسٹم کے ذریعے صوبے کے 52 ہزار سے زائد معذور افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر کے آئی ٹی سسٹم کی مدد سے ان کا غربت اسکور مرتب کیا گیا۔مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کا کردار: 4 ہزار 400 مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کی مدد سے شفاف سماجی و معاشی تصدیق کا عمل مکمل کیا گیا تا کہ حق دار تک اس کا حق پہنچایا جا سکے۔خصوصی افراد کی بحالی کے لیے انقلابی قدمخیبر پختونخوا حکومت نے معاشرے کے سب سے نازک اور محروم طبقے، یعنی خصوصی افراد (معذور افراد) کی معاشی خود مختاری اور سماجی تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ صوبائی حکومت نے باقاعدہ طور پر ’احساسِ امید‘ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت شدید معذوری کا شکار افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے نقد مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔مشیر برائے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، ملک لیاقت علی خان کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد معذور افراد کو کسی پر بوجھ بننے کے بجائے ان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی میں عزتِ نفس کے ساتھ معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مستحق افراد کی روزمرہ کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ انہیں معاشرے کا ایک فعال اور باوقار حصہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔شفافیت کی جدید ترین مثال: ای-ڈس ایبلٹی اور آئی ٹی سسٹمماضی میں فلاحی اسکیموں میں بدعنوانیاں، پسند و ناپسند اور میرٹ کی پامالی کے خدشات عام ہوتے تھے، لیکن ’احساسِ امید‘ پروگرام کو تمام تر سیاسی و ذاتی اثر و رسوخ سے پاک رکھنے کے لیے جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے۔حکومت نے صوبائی سطح پر ایک مربوط ای-ڈس ایبلٹی سسٹم (E-Disability System) قائم کیا، جس کے ذریعے صوبے بھر سے 52 ہزار سے زائد معذور افراد کا مکمل ڈیٹا یکجا کیا گیا۔ اس ڈیٹا بیس کی تشکیل کے بعد، ڈیٹا سائنس اور جامع سماجی و معاشی اعشاریوں (Socio-Economic Indicators) کی بنیاد پر الگورتھم کے ذریعے ہر فرد کا “غربت اسکور” (Poverty Score) خودکار طریقے سے مرتب کیا گیا تا کہ انتہائی نادار اور مستحق ترین معذور افراد کی ترجیحی بنیادوں پر نشاندہی کی جا سکے۔پروگرام کا ڈیٹا اور اہم اعداد و شمارپروگرام کے شفاف ڈھانچے اور وسعت کو سمجھنے کے لیے درج ذیل کلیدی اعداد و شمار کا جائزہ اہم ہے:رجسٹرڈ افراد کی کل تعداد: ای-ڈس ایبلٹی پورٹل کے ذریعے 52,000 سے زائد افراد کا اندراج۔ابتدائی مستفیدین: پہلے مرحلے میں 9,398 انتہائی مستحق اور شدید معذور افراد کا انتخاب۔ماہانہ وظیفہ: فی کس 5,000 روپے ماہانہ براہِ راست مالی امداد۔مقامی زکوٰۃ کمیٹیاں: صوبے بھر کی 4,400 مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کی سیکنڈ لیول فیلڈ تصدیق۔شفافیت کا طریقہ کار: آئی ٹی مبنی خودکار پورٹل تاکہ ڈیٹا میں تبدیلی یا انسانی مداخلت کا امکان نہ رہے۔4,400 مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کا مرکزی کردارڈیجیٹل ڈیٹا کی یکسوئی کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کی تصدیق کے لیے حکومت نے روایتی و مقامی انتظامی ڈھانچے کو بھی کارآمد بنایا۔ صوبے بھر کی 4 ہزار 400 مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کو متحرک کیا گیا، جن کے اراکین نے گھر گھر جا کر معذور افراد کا سماجی و معاشی جائزہ لیا۔ان کمیٹیوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ جو افراد ای-ڈس ایبلٹی پورٹل پر درج ہیں، کیا وہ واقعی معاشی طور پر اس حد تک مجبور ہیں کہ انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اس دوہرے اور مضبوط جانچ پڑتال کے عمل (Double Verification System) کے باعث صرف وہی افراد منتخب ہو سکے جو مستحقین کی فہرست میں سب سے اوپر آتے تھے۔پس منظر: پاکستان میں معذور افراد کی صورتحالپاکستان میں ایک طویل عرصے سے خصوصی افراد کی بہبود کو ثانوی حیثیت دی جاتی رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا ایک قابلِ ذکر حصہ کسی نہ کسی قسم کی جسمانی، ذہنی، بصری یا سماعت سے متعلق معذوری کا شکار ہے۔ خیبر پختونخوا کے دور افتادہ اور سیکیورٹی سے متاثرہ اضلاع میں صحت کی سہولیات کی کمی، قدرتی آفات اور حادثات کے باعث بھی معذور افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ان افراد کے پاس اکثر علاج معالجے، خصوصی آلات (مثلاً ویل چیئر، واکر، سمعی آلات) اور بنیادی خوراک کی خرید کے لیے مناسب وسائل نہیں ہوتے۔ اس پس منظر میں ’احساسِ امید‘ جیسے پروگرام کا قیام محض ایک وقتی مالی امداد نہیں بلکہ ایک بنیادی سماجی تحفظ (Social Safety Net) کا فریم ورک ثابت ہو سکتا ہے۔معاشی و سماجی اثرات کا تجزیہمعاشی ماہرین اور سماجی مبصرین کے مطابق، اگرچہ 5 ہزار روپے کی رقم ایک بظاہر مختصر اماؤنٹ معلوم ہوتی ہے، لیکن انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کے لیے یہ رقم نہایت اہمیت کی حامل ہے۔دواؤں اور بنیادی ضروریات کی فراہمی: معذور افراد کو ادویات اور سینیٹری اشیاء کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ یہ رقم ان کے ادویاتی اخراجات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔کفیل پر بوجھ میں کمی: اکثر غریب خاندانوں میں معذور فرد کو معاشی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ماہانہ نقد رقم ملنے سے ان کی اپنے ہی گھر میں قدر و قیمت اور عزّتِ نفس میں اضافہ ہوتا ہے۔مقامی معیشت کی گردش: جب ہزاروں مستحقین کے ہاتھ میں ماہانہ نقد رقم آئے گی تو وہ اسے مقامی بازاروں میں بنیادی اشیائے ضرورت پر خرچ کریں گے، جس سے نچلی سطح کی معیشت کو بھی تھوڑا سہارا ملے گا۔مستقبل کے چیلنجز اور ایڈیٹوریل سفارشات’احساسِ امید‘ پروگرام کا آغاز یقیناً ایک احسن اقدام ہے، تاہم اس کو طویل المدتی بنیادوں پر کامیا ب بنانے کے لیے حکومت کو درج ذیل چیلنجز کا سامنا رہے گا:فنڈز کی بلا تعطل فراہمی: ماضی میں ایسی اسکیمیں اکثر بجٹ کی کمی یا حکومتوں کی تبدیلی کے باعث معطل ہو جاتی رہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ احساسِ امید کے فنڈز کو قانونی اور مستقل تحفظ فراہم کرے۔پروگرام کا دائرہ کار بڑھانا: فی الوقت 52 ہزار میں سے صرف 9 ہزار 298 افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ بقیہ 42 ہزار سے زائد معذور افراد کو بھی مرحلہ وار اس نیٹ ورک میں لانا انتہائی ضروری ہے۔تربیت اور بحالی: مالی امداد کے ساتھ ساتھ، جو معذور افراد ہلکا پھلکا کام کر سکتے ہیں، ان کے لیے ٹیکنیکل ہنر اور کٹیج انڈسٹری میں کام کے مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے وظیفے پر منحصر نہ رہیں۔مجموعی طور پر خیبر پختونخوا حکومت کا ’احساسِ امید‘ پروگرام انسانی ہمدردی، معاشی عدل اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک بہترین امتزاج ہے، جسے اگر اسی شفافیت اور جذبے کے ساتھ جاری رکھا گیا تو یہ صوبے کے خصوصی افراد کی زندگیوں میں امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوگا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationضلع کرک میں سی ٹی ڈی کی بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی: فتنہ الخوارج کے 2 اہم کمانڈر ہلاک، تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام لاہور: ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں شدید گرمی اور حبس سے 2 زیرِ تربیت اے ایس آئیز جان بحق، قانونی و حفاظتی ایس او پیز پر سوالات بلندر