اہم نکات (خلاصہ) ناجائز منافع خوری: ضلع مہمند کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپ مالکان کی جانب سے سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی اور من مانے دام وصول کرنے کا انکشاف۔ اضافی بوجھ: پشاور اور مردان جیسے قریبی شہروں کے مقابلے میں فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر 10 روپے تک اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے۔ معیار اور پیمانے کی خامی: گرانفروشی کے ساتھ ساتھ ایندھن کی مقدار میں کمی (کم پیمانہ) اور ناقص معیار کی بھی شدید شکایات۔ انتظامی تحرک کا مطالبہ: شہریوں کا ڈپٹی کمشنر مہمند اور متعلقہ حکام سے فوری معائنے، جرمانے اور باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم کرنے کا مطالبہ۔ ضلع مہمند میں پٹرولیم مصنوعات کی سرکاری قیمتوں پر عدم عمل درآمد، ایندھن کی مقدار میں کمی اور ناقص معیار کی فروخت نے عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں رد و بدل کے بعد عام طور پر تمام اضلاع میں نئے نرخ نامے نافذ کیے جاتے ہیں، لیکن ضلع مہمند کے مختلف علاقوں میں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث بعض پٹرول پمپ مالکان کھلم کھلا ناجائز منافع خوری میں مصروف ہیں، جس سے پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار مقامی آبادی پر مزید مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ مقامی اور قریبی اضلاع کے نرخوں میں واضح فرق ضلع مہمند کے عوام کے مطابق انہیں قریبی اضلاع پشاور اور مردان کے مقابلے میں فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 10 روپے اضافی ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ سرحدی اور نوتشکیل شدہ اضلاع کے شہریوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف بھی ہے۔ پشاور و مردان کے سرکاری نرخ: حکومتی ہدایت کے مطابق مقرر کردہ معیار اور طے شدہ قیمت۔ ضلع مہمند کے پمپوں پر وصولی: فی لیٹر 10 روپے تک غیر قانونی اور اضافی چارجز۔ سفری اخراجات میں اضافہ: ایندھن کی مہنگائی کی وجہ سے گاڑی مالکان، دیہاڑی دار ڈرائیوروں اور عام مسافروں کا کرایہ بھی خود بخود بڑھ چکا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی اور قومی سطح پر قیمتیں کم ہونے کی صورت میں بھی انہیں اس کا فائدہ نہیں پہنچتا، کیونکہ مقامی پمپ مالکان پرانی یا خود ساختہ قیمتوں پر ہی ایندھن کی فروخت جاری رکھتے ہیں۔ کم پیمانہ اور ناقص معیار: دگنا نقصان گرانفروشی کے علاوہ جو چیز شہریوں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے، وہ پٹرول اور ڈیزل کا پیمانہ اور معیار ہے۔ کئی صارفین نے یہ شکایت کی ہے کہ پمپوں پر لگے ڈیجیٹل اور مکینیکل میٹرز میں ہیرا پھیری کی گئی ہے، جس کی وجہ سے رقم پوری لینے کے باوجود ایندھن کی مقدار کم دی جاتی ہے۔ مزید برآں، ایندھن کے معیار پر بھی شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے مالکان کے مطابق ناقص ایندھن کے استعمال سے ان کی گاڑیوں کے انجن جلدی خراب ہو رہے ہیں، جس کی مرمت پر ہزاروں روپے کا اضافی خرچ آ جاتا ہے۔ پیمانے کی کمی: 5 لیٹر ایندھن کی خریداری پر نصاف سے ایک لیٹر تک کا فرق آنا عام بات بن چکی ہے۔ ناقص اور ملاوٹ شدہ ایندھن: ایندھن میں ملاوٹ کی وجہ سے گاڑیوں کے انجن کی کارکردگی اور پائیداری متاثر ہو رہی ہے۔ صارفین کا دہرا معاشی نقصان: ایک طرف اضافی قیمت کی ادائیگی اور دوسری طرف گاڑیوں کے معائنے و مرمت کے اخراجات۔ انتظامی نگرانی کا فقدان اور عوامی تشویش ضلع مہمند کے عوام نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ پرائس کنٹرول کی جانب سے پٹرول پمپوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کا کوئی مستقل نظام موجود نہیں ہے۔ محض کاغذات یا بیانات کی حد تک محدود اقدامات سے گرانفروشوں اور منافع خوروں کا تدارک ممکن نہیں۔ شہریوں کے مطابق اگر انتظامیہ وقتاً فوقتاً سرپرائز وزٹ (ناگہانی معائنہ) کرے اور پیمانوں کا جائزہ لے، تو اس طرح کی بدعنوانی پر فوراً قابو پایا جا سکتا ہے۔ نگرانی کے موثر نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے پمپ مالکان کو بلا خوف و خطر قانون شکنی کا موقع مل رہا ہے۔ متاثرہ طبقات اور معاشی اثرات ایندھن کی قیمتوں اور معیار میں گڑبڑ صرف گاڑی مالکان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کا براہ راست اثر علاقے کے پوری معاشی دھارے پر پڑتا ہے۔ دکان دار اور تاجر: سامانِ خور و نوش اور دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ طلبہ اور ملازمین: روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے طلبہ اور دفاتر میں کام کرنے والے افراد کو زیادہ کرایہ دینا پڑتا ہے۔ کسان اور زمیندار: زراعت کے لیے استعمال ہونے والے ٹریکٹرز اور واٹر پمپوں میں ڈیزل کا استعمال مہنگا ہونے کی وجہ سے ان کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ شہریوں کے انتظامیہ سے مطالبات ضلع مہمند کی عوامی و سماجی تنظیموں اور عام شہریوں نے ڈپٹی کمشنر مہمند اور دیگر اعلیٰ حکام سے درج ذیل ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے: ہنگامی معائنہ: ضلع بھر کے تمام چھوٹے اور بڑے پٹرول پمپوں کی فوری، غیر معلنہ اور شفاف جانچ کی جائے۔ قیمتوں کی نمائش: تمام پمپوں پر سرکاری نرخ نامے کی واضح اور نمایاں آویزش کو لازمی قرار دیا جائے۔ پیمانے اور کوالٹی کی چیکنگ: خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر پمپوں کی مہروں، پیمانوں کی درستی اور ايندھن کے معیار کا سائنسی جائزہ لیا جائے۔ بلا امتیاز سزا و جرمانہ: قانون کی خلاف ورزی میں ملوث مالکان کے خلاف بھاری جرمانے، پمپ سیل کرنے اور قانونی کارروائی کی جائے۔ عوامی آلاہی اور رپورٹ: کی جانے والی کارروائیوں اور ان کے نتائج کو عوامی سطح پر شائع کیا جائے تاکہ شفافیت کا عنصر برقرار رہے۔ نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل ضلع مہمند میں شفافیت، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انتظامیہ خود میدان میں اتر کر سخت کنٹرول حاصل نہ کرے۔ ایندھن بنیادی ضرورت کی چیز ہے اور اس کی فروخت میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی براہ راست عام آدمی کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائے گی، تاکہ خطے کے لوگوں کو دیگر اضلاع کے برابر قانونی حقوق اور سہولیات میسر آ سکیں۔ Post navigation گوجرانوالہ ایجوکیشن بورڈ میں خاتون جونیئر کلرک کو ہراساں کرنے کا الزام، ویڈیو بیان کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف کا مطالبہ کراچی میں غیر قانونی کال سینٹر پر بڑا چھاپہ: خواتین اور کم سن بچوں سمیت 273 افراد گرفتار، این سی سی آئی اے کا کریک ڈاؤن