Preloader
Governor kp commitments for the province

اہم نکات (مختصر خلاصہ)

  • تجاوزات کے خلاف سخت مؤقف: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کا خود معائنہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس مہم میں کسی بھی سیاسی شخصیت کی سفارش نہیں مانی جائے گی اور بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔
  • پشاور کا راستہ اور ٹریفک قوانین: پشاور ہائی کورٹ کے سامنے بند راستے کو فوری کھولنے اور شہر بھر میں سخت ٹریفک قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • بجلی چوری اور وفاق سے تعلقات: گورنر خیبرپختونخوا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اب بجلی چوری کے زمانے لد چکے ہیں، ریکوری کے بغیر بجلی کی فراہمی ممکن نہیں، اور وفاق کے ساتھ صوبے کی کوئی لڑائی نہیں بلکہ تمام صوبوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھے جائیں گے۔
  • ترقیاتی منصوبے اور گندم اسکینڈل: عوام کے فائدے کے منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا، جبکہ گندم کے حوالے سے آنے والی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پشاور (خصوصی رپورٹ)

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں انتظامی امور، شہری سہولیات کی بہتری اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں مختلف ترقیاتی و انتظامی امور کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی اور صوبے کے اہم مسائل پر دوٹوک پالیسی کا اظہار کیا۔ ان کا یہ دورہ اور میڈیا ٹاک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبے بھر میں تجاوزات، بجلی کے بحران اور گندم کی تقسیم جیسے مسائل پر عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔

تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ

پشاور شہر میں سڑکوں کی کشادگی اور ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری آپریشن کے معائنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ پورے صوبے کو صاف کیا جائے گا اور جہاں جہاں تجاوزات موجود ہیں، انہیں بلا خوف و خطر ختم کیا جائے گا۔

گورنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ:

  • تجاوزات کے خاتمے کی اس مہم میں کسی بھی سیاسی شخصیت یا بااثر فرد کی کوئی سفارش نہیں چلے گی۔
  • قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
  • پشاور ہائی کورٹ کے سامنے بند راستے کو فوری طور پر کھولا جائے گا تاکہ عام شہریوں اور وکلاء کو آمد و رفت میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔
  • شہر میں پائیدار بنیادوں پر ٹریفک قوانین نافذ کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کا سفر محفوظ اور آسان ہو سکے۔

بجلی چوری اور ریکوری کا بحران: گورنر کا دوٹوک مؤقف

صوبے میں جاری شدید لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے نہایت سخت الفاظ میں کہا کہ “بجلی چوری کے زمانے اب چلے گئے ہیں۔” انہوں نے وضاحت کی کہ جب تک متعلقہ علاقوں اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی طرف سے لائن لاسز اور بلوں کی مکمل ریکوری نہیں ہوگی، تب تک بلا تعطل بجلی کی پیداوار اور فراہمی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

گورنر نے واضح کیا کہ وفاق کے ساتھ صوبے کی کوئی محاذ آرائی یا لڑائی نہیں ہے، بلکہ آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام وفاقی و صوبائی اکائیوں اور دیگر صوبوں کے ساتھ بہترین تعلقات کو فروغ دیا جائے گا تاکہ عوام کے مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو سکیں۔

گندم اسکینڈل اور غیر معیاری ترقیاتی منصوبے

صوبے میں گندم کی فراہمی اور اس سے جڑے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گندم کے حوالے سے جیسے ہی سرکاری و تحقیقی رپورٹ مکمل ہو کر سامنے آئے گی، اس پر فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بدعنوانی یا غفلت برتنے والے کسی بھی فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

علاوہ ازیں، ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:

  • عوام کے فلاح و بہبود اور ان کے ٹیکس کے پیسوں سے شروع کیے گئے منصوبوں کو بلا تاخیر جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔
  • وہ تمام منصوبے جو محض کمیشن یا ذاتی منافع (پیسوں) کے حصول کے لیے شروع کیے گئے تھے اور تاخیر کا شکار ہیں، ان کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

پس منظر اور موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال

خیبرپختونخوا میں اس وقت انتظامی اداروں اور صوبائی معاملات پر مختلف حلقوں کی طرف سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں بالخصوص پشاور میں بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک کے اژدہام، تجارتی مراکز کے باہر ناجائز تجاوزات اور بلدیاتی اداروں کی سست روی نے عام شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا کا اس طرح خود فیلڈ میں نکل کر تجاوزات کے آپریشن کا معائنہ کرنا اور انتظامی افسران کو کڑی ہدایات دینا ایک خوش آئند قدم ہے، جس سے نچلی سطح کی بیوروکریسی پر دباؤ بڑھتا ہے اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آتی ہے۔ عوام کی طرف سے بھی اس اقدام کو سراہا گیا ہے بشرطیکہ ان اعلانات کو مستقل بنیادوں پر عملی جامہ پہنایا جائے۔

نتیجہ اور تجزیہ

گورنر فیصل کریم کنڈی کی یہ میڈیا گفتگو اس امر کی غماز ہے کہ صوبے میں انتظامی ڈسپلن کی بحالی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تجاوزات کا خاتمہ، ٹریفک کی روانی، بجلی کے نظام میں اصلاحات اور مالی شفافیت ایسے بنیادی ستون ہیں جن پر کسی بھی علاقے کی ترقی کا دارومدار ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ ان اعلانات کو زمینی حقائق میں کتنی جلدی اور کتنی شفافیت کے ساتھ تبدیل کرتی ہے۔

نیوز ڈیسک: پولیٹیکل اینڈ گورننس مانیٹر