google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
KP introduce Kalash marriage act

کیلاش قبیلے کے لیے تاریخی قانون: خیبر پختونخوا حکومت نے ‘کیلاش میرج ایکٹ’ متعارف کرا دیا

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

پشاور (نیوز ڈیسک): خیبر پختونخوا حکومت نے ضلع چترال کی وادی کیلاش میں آباد قدیم کیلاش قبیلے کی منفرد ثقافت اور سماجی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے “کیلاش میرج ایکٹ” (Kalash Marriage Act) متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے قانون کا مقصد کیلاش برادری کے اندر شادی و بیاہ اور علیحدگی کے معاملات کو ان کی اپنی صدیوں پرانی روایات کے مطابق قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

قانون کے اہم نکات اور خصوصیات

رپورٹ کے مطابق، اس ایکٹ کے تحت کیلاش قبیلے کے سماجی معاملات کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے گی:

  • شادیوں کی رجسٹریشن: اب کیلاش قبیلے میں ہونے والی تمام شادیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے گی، جس سے خواتین کے حقوق اور وراثت کے معاملات کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔
  • روایتی قوانین کو ترجیح: شادی، طلاق اور وراثت کے تمام فیصلے کیلاش قبیلے کے اپنے رواج (Customary Laws) کے مطابق کیے جائیں گے، جنہیں اب عدالتوں میں قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔
  • عمر کی حد کا تعین: قانون میں شادی کے لیے کم از کم عمر کی حد بھی مقرر کی جائے گی تاکہ کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
  • کونسل کا قیام: ایک مخصوص کونسل یا باڈی تشکیل دی جائے گی جو شادیوں کی رجسٹریشن کے عمل کی نگرانی کرے گی اور کسی بھی تنازع کی صورت میں ثالث کا کردار ادا کرے گی۔

ثقافتی تحفظ اور عالمی اہمیت

کیلاش قبیلہ اپنی منفرد زبان، رقص اور مذہبی عقائد کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور یونیسکو (UNESCO) نے بھی ان کی روایات کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے رکھا ہے۔

  1. شناخت کا تحفظ: ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی عدم موجودگی میں کیلاش برادری کو اکثر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب ان کی مذہبی اور سماجی شناخت کو ریاست کی جانب سے مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔
  2. سیاحت پر اثرات: اس اقدام سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ایک روشن اور روادار چہرہ سامنے آئے گا، جس سے وادیِ کیلاش میں ثقافتی سیاحت (Cultural Tourism) کو مزید فروغ ملے گا۔

حکومتِ خیبر پختونخوا کا موقف

صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق، یہ قانون اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کے منشور کا حصہ ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی روایات پر عمل کرتے ہوئے کسی قانونی الجھن کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ یہ مسودہ جلد ہی حتمی منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔


خلاصہ: ایک نئی صبح کا آغاز

“کیلاش میرج ایکٹ” کی تیاری اس قدیم قبیلے کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ قانونی تحفظ ملنے سے نہ صرف ان کی روایات محفوظ ہوں گی بلکہ قبیلے کے اندرونی معاملات میں بھی شفافیت آئے گی۔

About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025