Preloader
Police awards ceremony

دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور خطرناک ڈکیت گینگ کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر انعامات اور توصیفی اسناد تقسیم؛ خیبر پختونخوا پولیس درپیش چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے: آئی جی پی

📌 خلاصہ خبر (اہم نکات):

  • اعزازات کی تقسیم: انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے سینٹرل پولیس آفس (CPO) پشاور میں منعقدہ پروقار تقریب کے دوران پشاور، مردان، چارسدہ، کرک اور ڈی آئی خان کے افسران و اہلکاروں کو نقد انعامات اور اسناد سے نوازا۔
  • دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی: کرک اور کوہاٹ پولیس کے مشترکہ آپریشن میں SHO عمر نواز کی شہادت میں ملوث 4 خطرناک دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ چارسدہ پولیس نے اسلام آباد کے معروف تاجر کے قتل میں مطلوب ملزم کو گرفتار کیا۔
  • مالی برآمدگی اور گینگ ناکارہ: ڈی آئی خان پولیس نے ڈکیتی کے ملزمان کو گرفتار کر کے 19 لاکھ 39 ہزار روپے کی مکمل برآمدگی کی، جبکہ پشاور اور مردان پولیس نے خطرناک گینگز کے خلاف کامیاب کارروائیاں مکمل کیں۔
  • آئی جی پی کا عزم: آئی جی پی ذوالفقار حمید نے تصدیق کی کہ صوبے کو درپیش امن و امان کے سخت چیلنجز کے باوجود پولیس فورس دلیری اور ایمانداری سے عوام کی جان و مال کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔
  • خیبر پختونخوا پولیس کی جرات کو تسلیم کرنے کی تقریب

سینٹرل پولیس آفس پشاور میں پروقار تقریب اور عزائم کا اعادہ

پشاور میں خیبر پختونخوا پولیس کے اعلیٰ ترین مرکز (سینٹرل پولیس آفس) میں 28 اگست 2026 کو ایک پروقار اور پرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں جرائم پیش حرفوں، دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور ڈکیت گروہوں کے خلاف اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر کامیاب کارروائیاں کرنے والے بہادر پولیس افسران اور جوانوں کی خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔

تقریب کی صدارت انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کی۔ اس موقع پر صوبے کے 5 کلیدی اضلاع—پشاور، مردان، چارسدہ، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان—کے منتخب افسران اور اہلکاروں کو ان کی بہترین کارکردگی، بے مثال فرض شناسی اور پیشہ ورانہ دلیری کے اعتراف میں نقد انعامات اور توصیفی اسناد دی گئیں۔ تقریب میں خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ قیادت، بشمول ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹرز عباس احسن، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن عالم شنواری، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز عباس مجید مروت اور پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) برائے آئی جی پی احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی۔

پنج اضلاع کی کامیاب کارروائیاں اور اعداد و شمار ایک نظر میں

ضلعکارروائی کا نوعیت / ٹارگٹنمایاں کامیابی و برآمدگی
پشاوراشتہاری اور خطرناک ملزمان کے گینگ کے خلاف کارروائیخفیہ اطلاع پر کامیاب آپریشن، جوابی فائرنگ میں بہادری کا مظاہرہ
مرداناسلام آباد پولیس کو مطلوب ملزمان کی گرفتاریبین الاضلاعی مربوط کارروائی اور ملزمان کی بحفاظت گرفتاری
چارسدہمعروف تاجر عامر اعوان کے قتل میں مطلوب ڈکیت کی گرفتاریبغیر کسی جانی نقصان کے پیشہ ورانہ مہارت سے آپریشن کی تکمیلی
کرک و کوہاٹدہشت گردوں کے خلاف مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO)SHO عمر نواز کے قاتلوں سمیت 4 اہم دہشت گرد ہلاک
ڈیرہ اسماعیل خانڈکیتی کے ملزمان کی گرفتاری اور مالی برآمدگی3 ڈکیت گرفتار، چھینی گئی 19 لاکھ 39 ہزار روپے کی مکمل رقم برآمد

تفصیلی آپریشنز: دہشت گردی کے خلاف ضرب اور سنگین جرائم کا خاتمہ

1۔ کرک و کوہاٹ کا مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن:

پولیس ترجمان کے مطابق، ضلع کرک میں کوہاٹ اور کرک پولیس کی مشترکہ ٹیموں نے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر ایک انتہائی حساس آپریشن کا آغاز کیا۔ اس دوران دہشت گرد گروپ نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس ٹیم نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 4 خطرناک اور اہم دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی ریکارڈ کے مطابق، ہلاک دہشت گرد متعدد سنگین جرائم اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں مطلوب تھے اور بالخصوص شہید ایس ایچ او (SHO) عمر نواز پر ہونے والے بزدلانہ حملے میں براہ راست ملوث تھے۔

2۔ چارسدہ پولیس کی پیشہ ورانہ کارروائی:

چارسدہ پولیس کے جوانوں نے ایک انتہائی حساس کیس میں زبردست پیش رفت کی، جہاں وہ اسلام آباد کے معروف تاجر اور ٹیوٹا شوروم کے مالک عامر اعوان کے قتل اور ڈکیتی میں مطلوب خطرناک ملزم کا سوراخ لگانے میں کامیاب ہوئے۔ پولیس ٹیم نے بلا خوف و خطر کارروائی کرتے ہوئے بغیر کسی جانی یا مالی نقصان کے ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔

3۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں مالِ مسروقہ کی سو فیصد برآمدگی:

ڈی آئی خان پولیس نے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 3 ڈکیتوں کو گرفتار کیا۔ پولیس نے پیشہ ورانہ تفتیش کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈکیتی کی واردات میں چھینی گئی 19 لاکھ 39 ہزار روپے کی پوری رقم بحفاظت برآمد کر کے اصل مالکان کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کی، جو کہ پولیس پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔

4۔ پشاور اور مردان پولیس کی گینگ خلاف کارروائیاں:

کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے خفیہ اطلاعات پر سنگین جرائم میں ملوث اشتہاری ملزمان کے گینگ کے خلاف گھیراؤ کیا۔ ملزمان کی شدید فائرنگ کے باوجود پشاور پولیس نے بہادری اور کنٹرول کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح مردان پولیس نے بھی وفاقی اور صوبائی دارالحکومت کی سیکیورٹی کو درپیش خطرات کے تناظر میں اسلام آباد پولیس کو درکار اہم اور مطلوب ملزمان کی گرفتاری عمل میں لا کر بین الاضلاعی تعاون کی بہترین مثال قائم کی۔

آئی جی پی ذوالفقار حمید کا خطاب: چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم

انعامات اور اسناد کی تقسیم کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے تمام انعام یافتہ افسران اور جوانوں کو مبارکباد پیش کی اور ان کے جذبے کو سراہا۔

آئی جی پی نے کہا:

“خیبر پختونخوا پولیس کو اس وقت صوبے میں امن و امان کی برقرار نگاہی کے حوالے سے مختلف نوعیت کے شدید چیلنجز درپیش ہیں، تاہم ہماری فورس ان تمام خطرات کا ڈٹ کر اور جرات کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے۔ آئے روز ہمارے جوان اور افسران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اور بہترین حکمت عملی اپنا کر دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید زور دیا کہ انعام حاصل کرنے والے اہلکاروں کی کارروائیاں فورس کے باقی جوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا پولیس تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اسی جذبے، دلیری اور ایمانداری کے ساتھ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ملک و قوم کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کا پس منظر اور اثرات

خیبر پختونخوا پولیس کا شمار طویل عرصے سے پاکستان کی ان فورسز میں ہوتا ہے جو دہشت گردی کی لہر کے خلاف صفِ اول (Frontline) میں کھڑی رہی ہیں۔ سرحد پار حالات، قبیلی اضلاع کا ضم ہونا اور جدید ہتھیاروں سے لیس غیر قانونی عناصر کے چیلنجز نے صوبائی پولیس پر ورک لوڈ اور خطرات کو بے پناہ بڑھا دیا ہے۔

ایسے میں سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جوانوں کی فوری پزیرائی اور انعامات کی فراہمی درج ذیل اہم اثرات مرتب کرتی ہے:

  • فورس کے مورال میں اضافہ: مسلسل درپیش خطرات کے ماحول میں بہادر اہلکاروں کی سرپرستی ان کی حوصلا افزائی کا باعث بنتی ہے۔
  • بین الاضلاعی تعاون اور آپریشنل افادیت: کوہاٹ-کرک جیسے مشترکہ آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ پولیس اضلاع کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور عملی تعاون بہتر ہو رہا ہے۔
  • عوامی اعتماد کی بحالی: مالی برآمدگی (جس طرح ڈی آئی خان میں 19 لاکھ روپے سے زائد برآمد کیے گئے) سے عام شہریوں کا پولیس کے ڈائریکٹ انویسٹی گیشن اور ریکوری سسٹم پر اعتماد قائم ہوتا ہے۔

📝 ایڈیٹوریل نوٹ (معروضیت و تصدیق):

یہ خبر سینٹرل پولیس آفس (CPO) پشاور اور ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری کردہ رسمی پریس ریلیز اور تصدیق شدہ سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تمام آپریشنز اور برآمد شدہ مالیاتی اعداد و شمار کو پولیس کے ریکارڈ کے مطابق معروضی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025