Preloader
Sakardu without electricity and internet

اہم نکات

  • بحران کی صورتحال: سکردو اور گمبہ میں 24 گھنٹوں کے دوران بمشکل ایک سے دو گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جس میں بھی بار بار کی بندش شامل ہے۔
  • مواصلاتی نظام متاثر: بجلی کی بندش کے ساتھ ہی تمام موبائل اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہو جاتی ہیں۔
  • ملٹی سیکٹر اثرات: اس دہری بندش سے مقامی تجارتی سرگرمیاں، آن لائن روزگار، تعلیمی نظام اور ہسپتالوں کے شعبے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
  • عوامی مطالبہ: گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور محکمہ برقیات سے ہنگامی اقدامات اور مسئلے کے مستقل حل کی اپیل کی گئی ہے۔

سکردو (خصوصی رپورٹ): گلگت بلتستان کے اہم تجارتی و سیاحتی مرکز سکردو اور اس کے ملحقہ علاقے گمبہ میں بجلی کی بدترین اور غیر معلنہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے جاری اس بحران کے باعث علاقے میں 24 گھنٹوں کے دوران بمشکل ایک سے دو گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے، جس میں بھی ہر چند منٹ بعد آ نکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بجلی کی اس طویل اور بے قاعدہ بندش نے نہ صرف عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ مواصلاتی اور انٹرنیٹ سروسز کو بھی مکمل طور پر زمین بوس کر دیا ہے۔

علاقے میں مواصلاتی نظام کا دارومدار مکمل طور پر بجلی کی فراہمی پر بن چکا ہے۔ جیسے ہی بجلی کی فراہمی منقطع ہوتی ہے، موبائل فون کے سگنلز کی طاقت ختم ہو جاتی ہے اور انٹرنیٹ سروسز دم توڑ دیتی ہیں۔ بجلی آنے پر ہی چند منٹوں کے لیے انٹرنیٹ بحال ہوتا ہے، جس سے سکردو اور گمبہ کے مکینوں کو جدید دور میں بھی سگنلز اور کنیکٹیوٹی کی تلاش میں در بدر ہونا پڑ رہا ہے۔

بجلی اور مواصلات کے دہری بحران کی زمینی حقیقت

سکردو اور گمبہ میں رونما ہونے والا یہ بحران محض بجلی کی بندش تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ایک سلسلہ وار تعطل کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جب پاور ہاؤسز یا مقامی ٹرانسفارمرز سے بجلی کی فراہمی معطل ہوتی ہے تو علاقے میں نصب سیلولر ٹاورز پر لگے بیک اپ بیٹری سسٹمز چند منٹوں کے اندر جواب دے جاتے ہیں۔

مقامی باشندوں کے مطابق، بجلی اور انٹرنیٹ کا یہ رابطہ اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ شہریوں میں ایک عام کہاوت بن چکی ہے: “بجلی گئی تو انٹرنیٹ گیا، بجلی آئی تو زندگی آئی۔” مسلسل چھ سے سات گھنٹے کے بلیک آؤٹ کے دوران انٹرنیٹ اور فون سروس مکمل طور پر منقطع رہنے سے پورا علاقہ بیرونی دنیا اور ایک دوسرے سے یکسر کٹ جاتا ہے۔

موجودہ بحران کے اہم اعداد و شمار:

  • 24 گھنٹوں میں بجلی کی دستیابی: صرف 1 سے 2 گھنٹے (غیر یقینی اور وقفے وقفے سے)۔
  • انٹرنیٹ کی ڈاؤن ٹائم: روزانہ 22 گھنٹوں سے زائد کی معطلی۔
  • متاثرہ آبادی: سکردو شہر، گمبہ اور ملحقہ دیہات کی لاکھوں کی آبادی۔
  • اقتصادی نقصان: مقامی فری لانسرز اور ڈیجیٹل بزنسز کا کام 90 فیصد تک معطل۔

پس منظر: گلگت بلتستان میں توانائی اور انفراسٹرکچر کے درپیش چیلنجز

سکردو اور گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں بجلی کا بحران کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، تاہم رواں موسم میں اس کی شدت ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ خطے میں توانائی کی پیداوار کا بڑا حصہ ہائیڈرو پاور (پانی سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس) پر انحصار کرتا ہے۔

سردیوں کے موسم میں گلیشیئرز اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہونے سے بجلی کی پیداوار قدرتی طور پر گر جاتی ہے، جبکہ گرمیوں کے اختتام اور سیزن کی تبدیلی کے دوران پاور ہاؤسز کی دیکھ بھال اور فنی خرابیاں بجلی کے شارٹ فال کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

مزید برآں، خطے میں بجلی کے ترسیلی نظام (ٹرانسمیشن لائنز) کا پرانا اور بوسیدہ ہونا بھی اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے۔ دور دراز علاقوں جیسے گمبہ میں ٹرانسفارمرز اور ڈسٹری بیوشن لائنوں کی بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث ادنیٰ فنی خرابی پر بھی پورا علاقہ کئی کئی گھنٹے تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ دوسری جانب، ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ٹاورز پر دیرپا سولر سسٹمز یا متبادل جنریٹرز کی عدم فراہمی کے باعث بجلی جاتے ہی مواصلاتی رابطہ ٹوٹ جاتا ہے۔

معیشت اور کاروبار پر تباہ کن اثرات

موجودہ دور میں بجلی اور انٹرنیٹ کسی بھی علاقے کی معاشی پیش رفت کا بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ سکردو اور گمبہ میں اس دہری بندش نے مقامی کاروباری طبقے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔

  1. IT اور فری لانسنگ کا شعبہ: گلگت بلتستان کی بڑی تعداد میں نوجوان آن لائن فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے سینکڑوں نوجوانوں کے کلائنٹس اور پروجیکٹس ہاتھ سے نکل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا معاشی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
  2. مقامی تجارت اور بینکاری: سکردو شہر اور گمبہ کے بازاروں میں پوائنٹ آف سیل (POS) مشینیں، آن لائن بینکنگ، ATM سروسز اور ایزی پیسہ یا جیز کیش کے نظام انٹرنیٹ نہ ہونے سے بالکل معطل ہو چکے ہیں۔ دکانداروں اور خریداروں کو نقدی کے لین دین میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔
  3. سیاحت اور ہوٹلنگ انڈسٹری: سکردو بین الاقوامی اور ملکی سیاحت کا مرکز ہے۔ ہوٹل مالکان کو آن لائن بکنگز، مہمانوں کی سہولیات اور کمیونیکیشن میں سخت مشکلات کا سامنا ہے، جس سے سیاحت کی صنعت سے جڑے افراد کی آمدن پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

تعلیم اور صحت کی سہولیات کی ابتر صورتحال

اس بحران کا سب سے دردناک پہلو تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز پر پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔

  • طلبا کی تعلیمی سرگرمیاں: یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبا، خصوصاً وہ جو آن لائن ریسرچ، اسائنمنٹس اور تیاری کے لیے انٹرنیٹ اور بجلی پر منحصر ہیں، شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ رات کے وقت روشنی نہ ہونے کے باعث امتحانات کی تیاری اور مطالعہ انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔
  • ہسپتال اور ہنگامی خدمات: سکردو اور گمبہ کے بنیادی اور ایگزیکٹو ہیلتھ سینٹرز میں ہنگامی صورتحال کے دوران روشنی اور طبی آلات چلانے کے لیے جنریٹرز کا استعمال انتہائی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ایکس رے، لیبارٹری ٹیسٹ اور دیگر تشخیصی سہولیات وقت پر میسر نہیں آتیں، جس سے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

شہریوں کا ردعمل اور حکام سے مطالبات

سکردو اور گمبہ کے شہریوں، تاجروں، طلبہ اور سماجی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کیا ہے اور متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

شہریوں نے واضح کیا ہے کہ 21ویں صدی میں بجلی اور انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت سے محروم رکھنا عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نہ تو لوڈشیڈنگ کا کوئی واضح شیڈول جاری کیا جاتا ہے اور نہ ہی تکنیکی خرابیاں دور کرنے کے لیے واضح ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے۔

عوام اور سول سوسائٹی کے اہم مطالبات:

  1. بجلی کے شیڈول کی وضاحت: گلگت بلتستان کا محکمہ برقیات فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا ایک منصفانہ اور واضح شیڈول جاری کرے تاکہ شہری اپنے معمولات مرتب کر سکیں۔
  2. ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور متعلقہ ادارے ٹیلی کام کمپنیوں کو پابند کریں کہ وہ اپنے ٹاورز پر موثر متبادل پاور بیک اپ (سولر یا جنریٹر) کا انتظام کریں۔
  3. انفراسٹرکچر کی بہتری: گمبہ اور سکردو کے ترسیلی نظام کی فوری مرمت کی جائے اور پرانے ٹرانسفارمرز کی جگہ نئے اور باصلاحیت ٹرانسفارمرز نصب کیے جائیں۔
  4. مستقل بنیادوں پر حل: خطے میں علاقائی سطح پر سولر اور دیگر متبادل توانائی کے منصوبوں پر کام کا فوری آغاز کیا جائے تاکہ ہائیڈرو پاور پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ایڈیٹوریل ملاحظات: معروضیت اور آئندہ کا لائحہ عمل

صحافتی نقطہ نظر سے سکردو اور گمبہ میں ابھرنے والا توانائی اور مواصلات کا بحران کسی ایک ادارے کی غفلت کے بجائے مجموعی بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی طویل المدتی کوتاہیوں کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے عارضی حل کے بجائے پائیدار لائحہ عمل مرتب کرے۔

شہریوں کی جانب سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ آئینی اور قانونی حق ہے۔ جب تک حکومت اور نجی ٹیلی کام ادارے مل کر بجلی اور سگنلز کی باقاعدہ فراہمی کو یقینی نہیں بناتے، اس وقت تک علاقے کی معاشی، تعلیمی اور سماجی زندگی کی بحالی ممکن نہیں۔ مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ہنگامی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور متاثرہ علاقوں کے عوام کی بے چینی اور مشکلات کا خاتمہ کریں۔