لاہور – پنجاب پولیس نے لاہور میں ایک چونکا دینے والے واقعے کے بعد اسٹیج اداکارہ ثمر رانا کو ان کی 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد اور جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے نواب ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں گھریلو ملازمہ سے زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا ہے، جس کے بعد اس واقعے نے ایک نئی شدت اختیار کر لی ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!مقدمے کی تفصیلاتپولیس کے مطابق، مبینہ طور پر اداکارہ کے گھر میں 14 سالہ لڑکی کو پانچ افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں ملوث افراد میں سے کچھ اب بھی فرار ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ اداکارہ پر ملازمہ کو تشدد اور دھمکانے کا بھی الزام ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، نامعلوم ملزمان نے مبینہ زیادتی کی ویڈیوز بھی بنائیں۔ یہ ویڈیوز اب پولیس کی تحقیقات کا حصہ ہیں۔پولیس کا مؤقفایس پی انویسٹی گیشن صدر ڈویژن، میاں معظم علی، نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعے میں ملوث باقی ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اس گھریلو ملازمہ اور اس کے خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کرے گی۔ یہ پولیس کا پختہ عزم ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔سماجی اور قانونی پہلویہ واقعہ ایک بار پھر معاشرے میں گھریلو ملازمین کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور ان کی حفاظت کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک ایسی اداکارہ پر اس نوعیت کا الزام لگنا، جو عوامی شخصیت ہیں، نہ صرف پولیس اور عدلیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ یہ معاشرے کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔آئندہ کا لائحہ عملپولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور زیادتی میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی اس واقعے کی مکمل تصویر سامنے آئے گی۔ فی الحال، اداکارہ ثمر رانا زیر حراست ہیں اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے اور عوام اس کے نتائج کے منتظر ہیں۔خلاصہپنجاب پولیس نے لاہور میں اسٹیج اداکارہ ثمر رانا کو 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد اور جنسی زیادتی کے سنگین الزام میں گرفتار کیا ہے۔ زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ باقی ملزمان کو گرفتار کر کے متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو انصاف فراہم کریں گے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک مجرمانہ فعل ہے بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Post navigationپنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس کونسل کے انتخابات میں گرما گرمی، ماحول کشیدہ پاکستان کا ایک بڑا ترقیاتی منصوبہ: 2030 تک کراچی-لاہور بلٹ ٹرین چلانے کا اعلان