اسلام آباد: وفاقی حکومت نے موٹر ویز پر لگی حفاظتی باڑ کی چوری اور اسے نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے نئے قوانین متعارف کروائے جا رہے ہیں جن کے تحت چوری میں ملوث افراد کو طویل المدتی قید اور بھاری مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور قومی اثاثوں کی حفاظت کرنا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!نئے قانون کے چیدہ چیدہ نکاتذرائع کے مطابق، مجوزہ قانونی ترامیم میں درج ذیل سزائیں شامل کی گئی ہیں:قید کی سزا: باڑ چوری کرنے یا اسے جان بوجھ کر نقصان پہنچانے پر مجرم کو پانچ سے سات سال تک قیدِ بامشقت دی جا سکے گی۔بھاری جرمانہ: چوری شدہ مال کی مالیت سے کئی گنا زیادہ جرمانہ عائد کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔ناقابلِ ضمانت جرم: اس جرم کو سنگین زمرے میں ڈالتے ہوئے اسے ناقابلِ ضمانت قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔حفاظتی باڑ کی اہمیت اور چوری کے نقصاناتموٹر وے کے گرد لگی باڑ محض ایک آہنی دیوار نہیں بلکہ مسافروں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضامن ہے۔ اس کی چوری سے درج ذیل خطرات پیدا ہوتے ہیں:آوارہ جانوروں کا داخلہ: باڑ نہ ہونے کی وجہ سے کتے، مویشی اور دیگر جنگلی جانور تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے آ جاتے ہیں، جو ہلاکت خیز حادثات کا سبب بنتے ہیں۔غیر قانونی آمد و رفت: مقامی لوگ باڑ کاٹ کر غیر قانونی راستے بنا لیتے ہیں، جس سے موٹر وے کی سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے۔قومی نقصان: باڑ کی دوبارہ تنصیب پر قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔انتظامیہ اور پولیس کا متحرک کرداروزارتِ مواصلات نے موٹر وے پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ان علاقوں میں گشت بڑھائیں جہاں باڑ چوری کے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی: بعض حساس مقامات پر کیمروں اور ڈرون کے ذریعے نگرانی کا نظام وضع کیا جا رہا ہے۔مقامی آبادی سے تعاون: موٹر وے کے اطراف بسنے والی آبادیوں کے عمائدین سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں ایسی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور پولیس کو اطلاع دیں۔وفاقی وزیر کا موقفحکومتی حکام کا کہنا ہے کہ موٹر وے پر سفر کرنے والے شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ باڑ کی چوری محض ایک مالی جرم نہیں بلکہ یہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، اس لیے مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔توقع ہے کہ ان سخت سزاؤں کے نفاذ کے بعد چوری کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی اور موٹر ویز پر سفر مزید محفوظ ہو جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationحکومتِ پاکستان کا سخت پالیسی برقرار رکھنے کا عزم مقامی طور پر تیار کردہ بجلی سے چلنے والے رکشے کی رونمائی