Preloader
Two police officers died due to heat

اہم نکات:

  • افسوسناک واقعہ: لاہور کے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں اورینٹیشن کورس کے دوران شدید گرمی اور حبس کے باعث دو اے ایس آئیز بے ہوش ہو کر جاں بحق ہو گئے۔
  • جاں بحق اہلکار: جان بحق ہونے والوں میں جہلم سے تعلق رکھنے والے اے ایس آئی تصور شاہ اور سرگودھا کے اے ایس آئی ارشد شامل ہیں۔
  • طبی امداد کی ناکامی: ٹریننگ کے فوراً بعد حالت بگڑنے پر دونوں اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
  • تحقیقات کا مطالبہ: حادثے کے بعد شدید موسمی حالات میں سخت جسمانی مشقوں اور ٹریننگ سینٹرز میں طبی و حفاظتی انتظامات کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔

ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں المناک حادثہ

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں دورانِ تربیت شدید گرمی، حبس اور تھکن کی تاب نہ لاتے ہوئے 2 زیرِ تربیت اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (ASIs) جان کی بازی ہار گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دونوں اہلکار پی کیڈر کے ذریعے منتخب ہو کر آئے تھے اور ایلیٹ اورینٹیشن کورس کا حصہ تھے۔ اس حادثے نے نہ صرف پولیس کے محکمے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ شدید ترین موسمی حالات کے دوران پولیس اہلکاروں کی سخت مشقوں کے طریقہ کار اور ایس او پیز (SOPs) پر بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واقعے کی تفصیلی صورتحال

ذرائع کے مطابق ایلیٹ ٹریننگ سینٹر میں معمول کے مطابق صبح 6 بجے جسمانی تربیت اور پی ٹی کا آغاز ہوا۔ ٹریننگ شروع ہوئے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ شدید گرمی اور فضا میں غیر معمولی حبس کے باعث دو اہلکاروں، اے ایس آئی تصور شاہ اور اے ایس آئی ارشد کی طبعیت اچانک شدید خراب ہو گئی۔

دونوں اہلکار گراؤنڈ میں چکرانے کے بعد بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ موقع پر موجود دیگر اہلکاروں اور انتظامیہ نے فوری طور پر دونوں کو ریسکیو کیا اور قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ تاہم ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں کچھ دیر زیرِ علاج رہنے کے بعد دونوں پولیس افسران دم توڑ گئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ابتدائی علامات شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔

جاں بحق اہلکاروں کا پس منظر

حادثے کا شکار ہونے والے دونوں افسران پنجاب پولیس کے ہونہار اہلکار تھے جو ترویج اور جدید تربیت کے لیے لاہور بھیجے گئے تھے:

  • اے ایس آئی تصور شاہ: ان کا تعلق ضلع جہلم سے تھا اور وہ اپنے علاقے میں ایک محنتی اور بااخلاق پولیس افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔
  • اے ایس آئی ارشد: ان کا تعلق ضلع سرگودھا سے تھا، جو طویل عرصہ محکمے میں اپنی خدمات انجام دینے کے بعد ترقیاتی کورس کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

دونوں اہلکاروں کی اچانک موت کی خبر جب ان کے آبائی علاقوں میں پہنچی تو وہاں کوہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

اعداد و شمار اور واقعے کی کلیدی تفصیلات

واقعے کی اہم ترین معلومات درج ذیل واضح پوائنٹس میں دیکھی جا سکتی ہیں:

  • مقامِ واقعہ: ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر، لاہور۔
  • وقت: صبح 06:00 بجے (دورانِ اورینٹیشن مشق)۔
  • بھرتی کا طریقہ کار: پی کیڈر کے ذریعے منتخب شدہ اے ایس آئیز۔
  • جانی نقصان: 2 اے ایس آئیز (تصور شاہ اور ارشد)۔
  • سببِ موت: شدید گرمی، حبس اور جسمانی نقاہت (ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق)۔
  • متاثرہ اضلاع: جہلم اور سرگودھا۔

موسمی شدت اور ٹریننگ کے طریقہ کار کا پس منظر

پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیاں اور ہیٹ ویوز (Heatwaves) ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔ خاص طور پر پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرمیوں اور مون سون کے ایام میں درجہ حرارت اور نمی کا تناسب اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ کھلے آسمان تلے شدید جسمانی مشقت انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ایلیٹ پولیس فورس کی ٹریننگ اپنی سخت اور غیر معمولی جسمانی مشقوں کے لیے جانی جاتی ہے۔ تاہم، ماہرینِ صحت اور پولیس کے سابق حکام کا کہنا ہے کہ سخت ترین تربیت کے لیے بھی موسم کے درجہ حرارت اور نمی کے انڈیکس (Humidity Index) کو مدنظر رکھنا عالمی معیار کا حصہ ہے۔ شدید گرمی میں زیادہ جسمانی زور لگانے سے جسم کا نظامِ حرارت (Thermoregulations) فلپ ہو جاتا ہے جو ہیٹ اسٹروک اور ملٹی آرگن فیلیئر کا باعث بنتا ہے۔

محکمے کے اندرونی اثرات اور اٹھنے والے سوالات

اس المناک واقعے کے بعد پولیس ڈیپارٹمنٹ اور عوامی حلقوں میں ٹریننگ کے مروجہ نظام کے حوالے سے گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔

اہم سوالات جو اس وقت زیرِ بحث ہیں:

  1. موسمی ایس او پیز کا فقدان: کیا شدتِ گرمی کے دنوں میں ٹریننگ کے اوقات کار کو صبح کے ابتدائی اندھیرے یا شام کے وقت میں منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا؟
  2. فوری طبی سہولیات: کیا ٹریننگ گراؤنڈ میں ایمرجنسی فرسٹ ایڈ، الیکٹرولائٹس اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی موجودگی یقینی تھی؟
  3. میڈیکل فٹنس چیک اپ: کیا سخت اورینٹیشن کورس شروع کروانے سے قبل تمام اہلکاروں کا مکمل اور جدید میڈیکل اسکریننگ ٹیسٹ کروایا گیا تھا؟

مستقبل کے لیے ایڈیٹوریل تجزیہ و سفارشات

پولیس اہلکار ریاست کا اہم ترین اثاثہ ہوتے ہیں جو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ دورانِ ٹریننگ اس نوعیت کے حادثات فورس کے مورال کو متاثر کرتے ہیں۔

حکومتِ پنجاب اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (ائی جی پی) کو اس واقعے کی شفاف تحقیقات کروانے کے ساتھ ساتھ درج ذیل اقدامات فوری طور پر اٹھانے کی ضرورت ہے:

  • تحقیقاتی کمیٹی کا قیام: واقعے کی حقیقی وجوہات کا تعین کرنے اور انتظامی غفلت کی نشاندہی کے لیے ایک غیر جانبدارانہ طبی و انتظامی بورڈ بنایا جائے۔
  • گارڈین فنڈ اور شہداء پیکیج: جاں بحق ہونے والے دونوں اے ایس آئیز کے سوگوار خاندانوں کو فوری معاوضہ اور سرکاری پیکیج فراہم کیا جائے تاکہ ان کے لواحقین کی مالی کفالت ہو سکے۔
  • ٹیکنالوجی اور سائنسی ٹریننگ ماڈل: شدتِ موسم کے پیشِ نظر ٹریننگ مینوئل پر نظرثانی کی جائے اور شدید گرمی کے دنوں میں آئوٹ ڈور (Outdoor) سخت مشقوں کے بجائے انڈور یا سائے دار جگہوں پر نظریاتی و فائرنگ کلاسز کو ترجیح دی جائے۔

یہ المناک حادثہ ایک تنبیہ ہے کہ جدت کے اس دور میں روایتی اور سخت ٹریننگ کے طریقوں کو سائنسی اصولوں اور انسانی صحت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025