Preloader
Unbearable inflation hurts poor

خبر کے اہم نکات

  • مہنگائی کا تازیانہ: ملک بھر میں سالانہ اور ماہانہ بنیادوں پر بنیادی ضروریات زندگی بالخصوص پٹرول، بجلی، ایل پی جی اور آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
  • اعداد و شمار کا جائزہ: سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی میں 106.86 فیصد، بجلی میں 52.38 فیصد، پٹرول میں 43.61 فیصد اور آٹے میں 34.87 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
  • اکتوبر 2026 کے اشاریے: اکتوبر 2026 میں مہنگائی کی مجموعی شرح 9.6 فیصد رہی، جس میں خوراک اور توانائی کے شعبوں نے عام آدمی کا گھریلو بجٹ مکمل طور پر برباد کر دیا۔
  • عوامی ردعمل و مطالبات: مزدوروں، رکشہ ڈرائیوروں اور شہریوں کی شدید چیخیں نکل گئیں؛ عوام کا حکومت سے پٹرولیم لیوی اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز میں فوری ریلیف دینے کا زبردست مطالبہ۔

عوام پر معاشی بوجھ: مہنگائی کا نیا سلسلہ

ملک بھر میں معاشی ناگفتہ بہ صورتحال اور افراطِ زر کے مسلسل دباؤ کے باعث عام آدمی کی زندگی دن بہ دن اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔ بنیادی ضرورت کی اشیاء، بالخصوص خوراک اور توانائی کے شعبے میں ہونے والے متواتر اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید معاشی مشکلات کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ بہاولنگر سمیت ملک کے دیگر اضلاع اور شہروں میں صورتحال اس حد تک ابتر ہو چکی ہے کہ روزمرہ کے گھریلو اخراجات اور افادیت (یوٹیلیٹی) بلوں کی ادائیگی عام شہریوں کی بس سے باہر ہو چکی ہے۔

اس غیر معمولی معاشی دباؤ کے نتیجے میں دیہاڑی دار مزدور، سفید پوش طبقہ اور تمام تر ملازمت پیشہ افراد اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے شدید کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں۔

سالانہ اور ماہانہ بنیادوں پر اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ

اقتصادی اشاریوں اور سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر توانائی اور بنیادی خوراک کے شعبے میں قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔

درج ذیل اعداد و شمار سے مہنگائی کے حجم اور اس کی شدت کا واضح اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

  • ایل پی جی: سالانہ بنیادوں پر قیمتوں میں 106.86 فیصد کا یکمشت اور تاریخی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
  • بجلی کے نرخ (کم ترین سلیب): غریب صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 52.38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
  • پٹرولیم مصنوعات: پٹرول کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 43.61 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
  • گندم کا آٹا (20 کلو تھیلا): بنیادی خوراک کی مد میں آٹے کے 20 کلوگرام تھیلے میں 34.87 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اکتوبر 2026 میں مہنگائی کی مجموعی شرح 9.6 فیصد کی سطح پر رہی، لیکن اگر صرف خوراک اور توانائی کے شعبوں کو دیکھا جائے تو یہ شرح عام شہری کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف ایک ماہ کے مختصر عرصے کے اندر گندم کی قیمت میں 9 فیصد، شہروں میں آٹے کی قیمت میں 7.5 فیصد اور دیہاتی علاقوں میں 9.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

شہریوں اور متاثرہ طبقات کی آہیں اور نالہ

بازاروں، منڈیوں اور سڑکوں پر موجود شہریوں، محنت کشوں اور کاروباری حضرات نے اس معاشی بحران پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

بہاولنگر کے مقامی بازار میں خریداری کے لیے آئے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ زندگی کے بنیادی لوازمات عام آدمی کی پہنچ سے بالکل باہر ہو چکے ہیں۔ ایک شہری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “پہلے پٹرول کی قیمتوں نے نقل و حمل مشکل بنائی، پھر بجلی کے بھاری بلوں نے گھر کے چولہے ٹھنڈے کر دیے، اور اب آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 2950 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اپنے بچوں کو روٹی کھلائیں، ان کی تعلیم کا خرچ اٹھائیں یا حکومت کے عائد کردہ بل بھریں؟”

اسی طرح ٹرانسپورٹ اور دیہاڑی دار طبقے کے حالات بھی انتہائی رحم طلب ہیں۔ رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے بتایا گیا کہ ایل پی جی کا 12 کلوگرام کا گھریلو و تجارتی سلنڈر 7 ہزار روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس اضافے کے باعث سواریوں کا کرایہ بڑھانا پڑتا ہے، جس سے سواریاں کم ہو گئی ہیں اور ان کی روزانہ کی خالص دیہاڑی آدھی رہ گئی ہے۔

مہنگائی کے اسباب اور پس منظر

معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ مہنگائی محض ایک دن یا ایک ماہ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے متعدد داخلی اور خارجی معاشی عوامل کارفرما ہیں:

  1. انٹرنیشنل مالیاتی اداروں کی شرائط: عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کے لیے حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کی سبسڈیز کا خاتمہ۔
  2. پٹرولیم لیوی اور ٹیکسز: پٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ سنگین ٹیکسز اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز جن کے اثرات سیدھے نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر پڑتے ہیں۔
  3. زر مبادلہ کی قدر اور سپلائی چین کے مسائل: خام مال کی درآمدی لاگت میں اضافہ اور مقامی سطح پر گندم کی منتقلی پر اٹھنے والے اخراجات۔

ان تمام عوامل نے مل کر ایک ایسا معاشی طوفان برپا کر دیا ہے جس نے مڈل کلاس کو خطِ غربت سے نیچے دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

عوامی مطالبات اور اصلاحات کی اشد ضرورت

اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اہلیانِ بہاولنگر سمیت ملک بھر کے شہریوں، تاجر برادری اور محنت کش تنظیموں نے حکومت اور اربابِ اختیار سے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

عوام کے اہم ترین مطالبات مندرجہ ذیل ہیں:

  • پٹرولیم لیوی میں کمی: پٹرول اور ڈیزل پر عائد اضافی لیوی کو فوری طور پر کم کیا جائے تاکہ نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آ سکے۔
  • فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا خاتمہ: بجلی کے بلوں میں ماہانہ بنیادوں پر لگائے جانے والے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کو ختم کر کے صارفین کو ریلیف دیا جائے۔
  • بنیادی خوراک پر سبسیڈی: گندم اور آٹے کی سرکاری قیمتوں پر مسلسل فراہمی اور سستے بازاروں کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ غریب طبقہ فاقہ کشی سے بچ سکے۔
  • ناجائز منافع خوری کا خاتمہ: پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال بنا کر بازاروں میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

نتیجہ

ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اس بات کی تقاضا کرتی ہے کہ حکومتی سطح پر صرف اعداد و شمار کی حد تک پالیسیاں بنانے کے بجائے عوام کو براہِ راست اور عملی ریلیف فراہم کیا جائے۔ بجلی، گیس، پٹرول اور آٹے جیسی بنیادی اشیاء پر حد سے زیادہ ٹیکس اور بوجھ عام شہری کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے فی الفور پٹرولیم لیوی اور بجلی کے اضافی چارجز میں معقول کمی کر کے بنیادی خوراک کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا تو معاشی بدحالی کا یہ دائرہ کار مزید وسیع ہو کر معاشرتی ناہمواری اور شدید اضطراب کا سبب بن سکتا ہے۔