اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام نجی مواصلاتی کمپنیوں کو جدید ترین “مصنوعی ذہانت” (Artificial Intelligence) اپنانے کی تاکید کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو درپیش نیٹ ورک کی خرابیوں، کال ڈراپ اور سست رفتار انٹرنیٹ جیسے مسائل کا مستقل حل نکالنا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!مصنوعی ذہانت کا کردار اور فوائدپی ٹی اے کے مطابق، مواصلاتی نیٹ ورک میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کئی حوالوں سے انقلابی ثابت ہو سکتا ہے:مسائل کی قبل از وقت نشاندہی: مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے نیٹ ورک میں پیدا ہونے والی کسی بھی تکنیکی خرابی کا علم اس کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی ہو سکے گا، جس سے اسے فوری طور پر درست کرنا ممکن ہوگا۔صارفین کا تجربہ: اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کمپنیاں یہ جان سکیں گی کہ کن علاقوں میں صارفین کو سگنلز کی کمی کا سامنا ہے اور وہاں خودکار طریقے سے نیٹ ورک کی صلاحیت بڑھائی جا سکے گی۔سائبر تحفظ: مصنوعی ذہانت نیٹ ورک پر ہونے والے مشکوک حملوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔کمپنیوں کے لیے نئی ہدایاتپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے مواصلاتی کمپنیوں کو درج ذیل نکات پر عمل درآمد کا حکم دیا ہے:جدید نظام کی تنصیب: اپنے بنیادی ڈھانچے میں ایسے سافٹ ویئر شامل کریں جو انسانی مداخلت کے بغیر نیٹ ورک کی نگرانی کر سکیں۔ڈیٹا کا تجزیہ: صارفین کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے نیٹ ورک کی لوڈ مینجمنٹ کو بہتر بنانا تاکہ رش کے اوقات میں بھی سروس متاثر نہ ہو۔شفافیت: کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی کارکردگی کی رپورٹ اتھارٹی کو جمع کرائیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کتنا فرق پڑا ہے۔معیارِ خدمت (QoS) پر توجہحالیہ کچھ مہینوں میں صارفین کی جانب سے نیٹ ورک کے معیار کے حوالے سے شکایات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ روایتی طریقوں سے اب ان مسائل پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے، اس لیے جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نہ صرف کال کا معیار بہتر ہوگا بلکہ انٹرنیٹ کی رفتار میں بھی استحکام آئے گا۔مستقبل کا منظر نامہماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں “پانچویں نسل کے نیٹ ورک” (5G) کے آغاز سے پہلے اس قسم کی تکنیکی تبدیلیاں انتہائی ضروری ہیں۔ اگر کمپنیاں بروقت ان ہدایات پر عمل کرتی ہیں تو پاکستان کا مواصلاتی نظام عالمی معیار کے برابر آ سکتا ہے۔ اس سے ڈیجیٹل معیشت کو بھی فروغ ملے گا اور عام صارفین کی زندگیوں میں آسانی آئے گی۔اختتامی کلماتپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا یہ فیصلہ ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ اب یہ مواصلاتی کمپنیوں پر منحصر ہے کہ وہ کتنی تیزی سے اس جدید نظام کو اپنا کر اپنے صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرتی ہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationٹیکسلا میں چھٹی صدی قبل از مسیح سے بھی قدیم شہر کے آثار دریافت: آثارِ قدیمہ کی بڑی کامیابی حکومتِ پاکستان کا سخت پالیسی برقرار رکھنے کا عزم