[ad_1]Thank you for reading this post, don't forget to subscribe! شمیمہ بیگم(فائل فوٹو)۔برطانیہ چھوڑ کر شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے اور اس کی پاداش میں برطانوی شہرت سے محروم ہونیوالی شمیمہ بیگم اب اپنی شہریت کی بحالی کیلئے بین الاقوامی سطح پر وکلاءکی وساطت سے جدوجہد کر رہی ہیں۔دوسری جانب ممکنہ طور پر بحالی کے بعد داعش کی دیگر دلہنیں جو شامی جیلوں سے فرار ہوئیں انکی برطانیہ واپس آنے کی بازگشت اس وقت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جیل کے حراستی کیمپ سے فرار ہونیوالی خواتیں کی بڑی تعداد داعش کے کارکنان کیساتھ رشتوں میں بندھی ہوئی ہیں۔خواتین کی ہنگامہ آرائی کے بعد افراتفری میں درجنوں خواتین نے باڑ کو گرایا اور کیمپ سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں، الہول نامی کیمپ ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول ہے جو کئی دیگر جیلوں کی نگرانی کا فریضہ سر انجام رہا ہے، جہاں پر 9 ہزار سے زائد جنگجو اور چالیس ہزار کے قریب خواتین اور بچے کسی نہ کسی حوالے سے عسکریت پسندوں سے متعلق ہیں۔حالیہ بد امنی کے بعد خدشہ سر اٹھا رہا ہے کہ 26 سالہ شمیمہ بیگم جو 15سال کی عمر میں 2005 کے دوران لندن چھوڑنے کے باعث شہریت گنوا چکی ہیں، اب یورپی یونین کی عدالتوں سے ریلیف ملنے کے بعد برطانیہ آ سکتی ہیں۔سابق برطانوی ہوم سیکریٹری ساجد جاوید نے قومی سلامتی کی بنیادوں پر شمیمہ کی شہریت منسوخ کی تھی اور وہ طویل مدت سے قانون چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ [ad_2] Source link About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationصوبے کا نام ’پختونخوا‘ کسی صورت قبول نہیں، ’گندھارا‘ یا ’صوبہ سرحد‘ رکھا جائے: چیئرمین پاکستان ہندکووان تحریک ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کب تک متوقع ہے؟