ادیان کے پیروکاروں کی سماجی ذمہ داریاں ہی موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر حسین چاقمیادیان عالم ارتقا انسانی کی اہم کڑی ہیں۔ انسانی سماج کی ترقی کے لیے ایسے فکرو نظریہ کی ضرورت ہوتی ہے جو جامع اور ہمہ گیر ہو، کانفرنس سے شرکاء کا خطابپشاور( نیوز رپورٹر) آج کی دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے ادیان کے پیروکار اپنے مذہب پر صحیح معنوں میں عمل کریں۔ بین الامذاہب ہم آہنگی کے ذریعے ہی انسانیت کی خدمت کی جاسکتی ہے اور دنیا میں آنے والی آفات اور درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ مذاہب اخلاقی رہنمائی کی طاقتور قوتوں کے طور پر ایسے اصول فراہم کرتے ہیں جو افراد اور معاشروں کو معاصر مسائل کے سامنے ذمہ دارانہ طرز عمل کرنے کہ ترغیب دے سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور اور ہم لوگ کی اشتراک سے خانہ فرہنگ میں منعقدہ “پیرو ادیان کی سماجی ذمہ داری اور آج کے عالمی چیلنجز” کانفرنس سے شرکا نے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ جس میں تمام ادیان کو باہمی مسالمت آمیز زندگی گزارنے اور مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے امن و سلامتی اور دنیا میں عدل و انصاف کے قیام پر زور دیا گیا۔ کانفرنس کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد مسیحی مذہبی دعائیہ کلمات پڑھے۔ کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل علی بنفشہ خواہ ، خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین چاقمی، ہم لوگ کے چئیرمین آگسٹن جیکب، سابقہ وزیر برائے اقلیتی امور وزیرزادہ، علامہ عابد حسین شاکری، راوی کمار، بشپ آرنیسٹ جیکب، پشاورزرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نزیر،چائینہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین، صوبائی صدر پاکستان ہندکوان تحریک اکبر سیٹھی، محمد مقصود احمد سلفی، علامہ محمد شعیب اور بڑی تعداد میں مسیحی اور ہندو کمیونٹی کے علاوہ دیگر معززین نے شرکت کی۔ خانہ فرہنگ ایران پشاور کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین چاقمی نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادیان الہی کی تعلیمات کے مطابق، حق کا ادراک، آزادی، امن و سلامتی اور دنیا میں عدل و انصاف کا قیام ، مشکلات، مسائل اور منفی پہلوں جیسے محرومی، قحط، بھوک، انتہا پسندی اور قدرتی آفات سے مناسب طریقے سے نمٹنے کی اہمیت پر بات کی انہوں نے کہا کہ انسانی معاشرے میں مسالمت آمیز باہمی زندگی، سلامتی اور امن کا حصول ہے اور “یقینی صلح” تب ہی ممکن ہے جب نہ کوئی مظلوم ہو اور نہ ہی ظالم۔ انہوں نے کہا کہ آج کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے گلوبل ویلج میں عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں مذاہب کا کردار بہت زیادہ توجہ طلب ہو چکا ہے۔ مذاہب میں سچائی ایمانداری اور عدالت و انصاف اور جبر کی مخالفت جیسی اعلی اقدار پر زور دیا گیا، ان پر عمل کرنے سے انسان اپنے وحشی اور شیطانی مزاج کو کنٹرول کرتا ہے۔ آج نیکی اور بدی، فرشتہ اور شیطان کے درمیان جنگ عالمی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لیکن بین الاقوامی برادری کے ارکان کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شعوری طور پر جبر کا مقابلہ کریں اور عالمی چیلنجوں کے خلاف جنگ میں بامعنی انصاف کے قیام کے ساتھ ساتھ جبر اور منظم بدعنوانی سے پاک دنیا کے قیام کے لئے اقدامات کریں۔ مقررین نے امن کے لئے تمام مذاہب کے ایکا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکار باہم ، اتحاد، برادری اور دوستی کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا میں موجود تمام ادیان صلح اور امن کا درس اور تشدد وخونریزی کی مخالفت کرتے ہیں، اور دہشت گردی جیسے عوامل کا کسی بھی دین سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کسی بھی دین کی مقدس کتاب اس کی تعلیم دیتی ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationبھارت میں مہاراشٹرحکومت نے شراب اور سگریٹ سے مالی مسائل کے حل کی کوشش یہ 7اکتوبر 2023ء کے بعد سے ابتک غاصب اسرائیلیوں کی طرف سے پہنچایے گئے جانی مالی نقصانات کا مختصر جائزہ :