(یہ رپورٹ جنگ کے 454 دن گزرنے کے بعد کی ہے)1- شہداء کی تعداد 45541Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!2-خواتین شہداء کی تعداد 128873-کمسن شہداء کی تعداد 178184- عمر رسیدہ شہداء کی تعداد 34475-ڈاکٹر اور نرس شہداء 10686-تعلیمی شعبے کے شہداء کی تعداد 7567-خبرنگار شہداء کی تعداد 2018-اقوام متحدہ کے عملہ شہداء کی تعداد 262زخمیوں کی تعداد 1083791-زخمی خواتین کی تعداد 38222-زخمی بچوں کی تعداد 123201ـ ھجرت کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ2ـ شمال غزہ کی طرف ھجرت کرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ 60 ہزار3ـ آنروا میں پناہندگان کی مجموعی تعداد 10 لاکھصحت کے مراکز پر بمباری :1- 34 ہسپتال مکمل تباہ ہوچکے ہیں2- 458 ڈسپنسریوں تباہ ہوچکی ہیں۔3- 164 ہسپتالوں پر حملہ کیا جاچکا ہے4- 136 ایمبولینس تباہ کیے جاچکے ہیں۔فلسطینی غیر عسکری مراکز پر حملوں کی رپورٹ :1- 214 حکومتی اداروں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔2- 2 کلیساؤں کو تباہ کیا گیا ہے3- 125 سکول کالجز اور یونیورسٹیوں مکمل تباہ کیا جاچکا ہے4- 822 مساجد کو شہید کیا جا چکا ہے ۔5- 82 ہزار عمارتوں کو ویران کیا جاچکا ہے۔6- 4 لاکھ 53 ہزار عمارتوں کو ناقابل سکونت بنادیا گیا ہے ۔7- 10 ہزار رہائشی عمارتوں کو تباہ کیا جاچکا ہے۔فلسطینی اسیروں کی تعداد :1- 12100 فلسطینوں کو طوفان الاقصیٰ کے بعد سے ابتک گرفتار کیا جاچکا ہےAbout The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Post navigationخانہ فرنگ پشاور میں کانفرنس کا انعقاد فوڈ اینڈ کلچر فیملی فیسٹیول 2025