Preloader
Good price going to hit 0.5m next week

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • تاریخی اضافہ: عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان میں فی تولہ سونا 5 لاکھ روپے کی بلند ترین سطح عبور کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
  • عالمی و مقامی عوامل: بین الاقوامی سطح پر اقتصادی غیر یقینی صورتحال، مرکزی بینکوں کی خریدی اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اس غیر معمولی تیزی کے بنیادی اسباب ہیں۔
  • عوام اور کاروباری طبقے پر اثرات: زیورات کی صنعت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے، جبکہ خریداروں کی قوتِ خرید متاثر ہونے سے سارہ مارکیٹس میں سننّاطہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
  • ماہرین کی رائے: اقتصادی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری تو سمجھا جا رہا ہے، لیکن نئی خریداریاں انتہائی احتیاط کا تقاضا کرتی ہیں۔
  • اکستان میں سونا پہلی بار 5 لاکھ روپے فی تولہ

اسلام آباد / کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان کی ملکی تاریخ میں کیمیاوی اور قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ کے حوالے سے ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کو لگنے والے پروں اور بین الاقوامی معاشی تحرک کے نتیجے میں، پاکستان میں سونے کی قیمت آئندہ ہفتے کے دوران 5 لاکھ روپے فی تولہ کا سنگِ میل عبور کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مقامی بلین مارکیٹس اور سرافہ ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیزی کا موجودہ رجحان برقرار رہا، تو ملکی تاریخ میں پہلی بار سونا اس حیران کن اور تاریخی سطح تک پہنچ جائے گا۔

اس پیش رفت نے نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں اور جیولرز کو تشویش اور حیرت میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عام شہری اور خاص طور پر شادی بیاہ کے لیے زیورات بنانے والے خاندان شدید تحفظات کا شکار ہو چکے ہیں۔

عالمی منڈی کی صورتحال اور مقامی مارکیٹ پر اس کے اثرات

پاکستان میں سونے کی قیمت کا براہِ راست تعلق دو بنیادی عوامل سے ہوتا ہے: اول، بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت، اور دوم، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر۔

حالیہ ہفتوں کے دوران عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر جی سیاسی کشیدگی، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود سے متعلق متوقع فیصلے، اور عالمی افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو محفوظ ترین اثاثے یعنی ‘سونے’ میں سرمایہ کاری پر مجبور کیا ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں ریکارڈ سطح کو چھوتی ہیں، تو اس کا سیدھا اور براہِ راست اثر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹس پر پڑتا ہے۔

گزشتہ چند روز کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں 24 کیپٹ (شُدھ) سونے کی فی تولہ قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد اب 5 لاکھ روپے کی حد صرف چند قدم کے فاصلے پر رہ گئی ہے۔

سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بنیادی اسباب

قیمتوں میں اس قدر تیز اور غیر معمولی اضافے کے پیچھے درج ذیل اہم عوامل کارفرما ہیں:

  • بین الاقوامی اقتصادی غیر یقینی: دنیا کی بڑی معیشتوں میں کساد بازاری کے خدشات کے باعث سرمایہ کار شیئرز اور دیگر اثاثوں کے بجائے سونے میں محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
  • مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخائر میں اضافہ: دنیا بھر کے مختلف مرکزی بینکوں نے اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
  • روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ: اگرچہ حالیہ دنوں میں روپیہ مستحکم رہنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ماضی میں روپے کی قدر میں ہونے والی کمی اور در آمدی لاگت نے بھی مقامی سطح پر سونے کو مہنگا کیا ہے۔
  • طلب اور رسد کا توازن: پاکستان میں خام سونے کی در آمد اور مقامی مارکیٹ میں اس کی دستیابی پر اثرات کے باعث سپلائی چین کے مسائل بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

زیورات کی صنعت اور کاروباری طبقے کی صورتحال

پاکستان میں سونے کو صرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ ہماری ثقافت، روایات اور خصوصاً شادی بیاہ کی تقاریب کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، فی تولہ قیمت 5 لاکھ روپے کے قریب پہنچنے سے صرافہ مارکیٹس کی رونقیں مانند پڑ گئی ہیں۔

کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کی اہم صرافہ مارکیٹوں کے تاجروں کے مطابق، عام خریدار کی قوتِ خرید مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

جیولرز ایسوسی ایشن کے خدشات: سرافہ تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس حد تک اضافے کے بعد مصنوعی اور آرٹیفیشل جیولری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جو افراد پہلے تولوں کے حساب سے سونا خریدتے تھے، وہ اب گرامز تک محدود ہو گئے ہیں یا پھر ہلکے وزن کے ڈیزائن بنوانے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ہزاروں جیولرز اور اس صنعت سے وابستہ ہنر مند کاریگروں کا روزگار شدید متاثر ہو رہا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے صورتحال: فائدہ یا خطرناک موڑ؟

ایک طرف جہاں عام صارف پریشان ہے، وہیں دوسری طرف سرمایہ کار طبقہ اس صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھ رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے نے ہمیشہ طویل المدتی بنیادوں پر مہنگائی کے خلاف ایک دفاعی ڈھال کا کام کیا ہے۔ جن افراد نے کچھ عرصہ قبل سونے میں سرمایہ کاری کی تھی، وہ اس وقت نمایاں منافع میں ہیں۔ لیکن موجوہ بلند ترین سطح پر نئی سرمایہ کاری کے حوالے سے ماہرین تقسیم ہیں۔

  • موجودہ سرمایہ کار: جن کے پاس پہلے سے سونا موجود ہے، ان کے اثاثوں کی مالیت میں تاریخی اضافہ ہو چکا ہے۔
  • نئے خریدار: موجودہ ریکارڈ قیمتوں پر یکمشت بڑی سرمایہ کاری کو ماہرین رسک سے تعبیر کرتے ہیں، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں کسی بھی قسم کی مثبت معاشی تبدیلی یا پرافٹ ٹیکنگ کی صورت میں قیمتوں میں عارضی کمی (کریکشن) بھی آ سکتی ہے۔

مستقبل کا منظر نامہ اور تجاویز

آئندہ ہفتہ پاکستان کی صرافہ مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں تیزی کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا، تو 5 لاکھ روپے کا سنگِ میل پار ہونا تقریباً طے شدہ نظر آتا ہے۔

تاہم، ماہرینِ معیشت اور مالیاتی مشیر شہریوں کو درج ذیل نکات پر غور کرنے کا مشورہ دیتے ہیں:

  1. جذباتی فیصلوں سے گریز: صرف خبروں کی بنیاد پر عجلت میں خریداری سے بچا جائے۔
  2. سرمایہ کاری میں تنوع: تمام تر سرمایہ صرف سونے میں لگانے کے بجائے دیگر محفوظ مالیاتی ذرائع پر بھی غور کیا جائے۔
  3. مختصر بمقابلہ طویل المدت: اگر سونا خریدنا ناگزیر ہو تو اسے قلیل المدتی منافع کے بجائے طویل المدتی حفظِ ماتقدم کے طور پر دیکھا جائے۔

نتیجہ: پاکستان میں فی تولہ سونے کا 5 لاکھ روپے کی حد کو چھونا محض ایک عدد کا ہندسہ بدلنا نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی معاشی تبدیلیوں اور مقامی اقتصادی صورتحال کی ایک گہری عکاسی ہے۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کے لیے بھی یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ملک میں معاشی استحکام اور عام آدمی کی قوتِ خرید کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور پائیدار اقدامات کریں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025