Preloader
Trump signs order to create space military

خبر کے اہم نکات:

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی نئی فوجی اکیڈمی ‘یو ایس سپیس اکیڈمی’ (U.S. Space Academy) کے قیام کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔
  • اکیڈمی کے قیام کا مقصد سپیس فورس، ملٹری سپیس سسٹمز اور کمرشل خلائی شعبے کے لیے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ماہرین اور افسران کی تربیت کرنا ہے۔
  • اس اہم اقدام کا باضابطہ اعلان ہوسٹن، ٹیکساس میں واقع ناسا کے جونسن سپیس سینٹر (Johnson Space Center) میں ایک پروقار تقریب کے دوران کیا گیا۔
  • صدر ٹرمپ کے مطابق سپیس فورس کے تیز رفتار پھیلاؤ، چاند اور مریخ کی تسخیر کے عزائم اور خلائی صنعت میں تجارتی نجی کمپنیوں کے بڑھتے کردار نے اس اکیڈمی کی ضرورت کو جنم دیا۔
  • امریکی خلائی صلاحیتوں کا نیا افق

ہوسٹن: امریکی خلائی قوت کو 21ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور خلا میں اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی پہلی ‘یو ایس سپیس اکیڈمی’ (U.S. Space Academy) کے قیام کے لیے انتظامی حکم نامے (Executive Order) پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ نئی عسکری تعلیمی درسگاہ خاص طور پر ان افراد، ماہرین اور فوجی افسران کو تعلیم و تربیت فراہم کرے گی جو خلا سے متعلق پیشہ ورانہ خدمات اور عسکری کارروائیوں کو اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔

اس منصوبے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں واقع ناسا کے مشہورِ زمانہ جونسن سپیس سینٹر کا دورہ کیا۔ تقریب میں خلائی ماہرین، عسکری حکام اور سائنسدانوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلائی شعبے میں امریکہ کے بلند نظر عزائم، امریکہ کی سپیس فورس کے تیز رفتار پھیلاؤ اور تجارتی خلائی صنعت کے بے مثال فروغ نے اس نئی اور جدید ملٹری اکیڈمی کی ضرورت کو حتمی شکل دی ہے۔

‘یو ایس سپیس اکیڈمی’ کی ضرورت اور بنیادی مقاصد

امریکہ میں ویسٹ پوائنٹ (آرمی)، ایناپولس (نیوی)، اور کولوراڈو اسپرنگس (ایئر فورس) کی طرز پر روایتی فوجی اکیڈمیاں دہائیوں سے موجود ہیں، تاہم خلائی سرحدوں کی بڑھتی تزویراتی اہمیت کی وجہ سے ایک مکمل طور پر سپیس پر مبنی اکیڈمی کا قیام ناگزیر محسوس کیا جا رہا تھا۔

نئی سپیس اکیڈمی کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:

  • تخصص اور اعلیٰ تعلیم: اکیڈمی میں طلبہ اور ملٹری کیڈٹس کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، سپیس نیویگیشن، مدار کی فزکس، سائبر سپیس ڈیفنس، اور جدید راکٹ سسٹمز میں اعلیٰ ڈگری پروگرام فراہم کیے جائیں گے۔
  • انسانی وسائل کی تیاری: امریکی سپیس فورس اور ناسا کے ساتھ ساتھ نجی خلائی کمپنیوں (کمرشل سپیس انڈسٹری) کی روز بروز بڑھتی ہوئی پیشہ ورانہ ضروریات کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی مسلسل فراہمی۔
  • عسکری و سول شراکت داری: خلائی سرحدوں پر ممکنہ خطرات، سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے تحفظ اور دفاعی و تجارتی خلائی ٹیکنالوجی کی آپس میں ہم آہنگی قائم کرنا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جس طرح 20ویں صدی میں فضائی قوت کے لیے آزاد ایئر فورس اکیڈمی قائم کی گئی تھی، اسی طرح 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق خلائی حدود کے لیے ایک مخصوص عسکری تعلیمی ادارے کا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

سپیس فورس اور تجارتی خلائی شعبے کا تیز رفتار پھیلاؤ

اس اکیڈمی کے قیام کے پس منظر میں امریکی عسکری اور تجارتی شعبے میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والی انقلابی تبدیلیاں شامل ہیں۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مسلح افواج کی چھٹی شاخ کے طور پر ‘یو ایس سپیس فورس’ (US Space Force) کی بنیاد رکھی تھی۔ ابتداء میں اس نئے شعبے کی تشکیل پر مختلف عسکری و سیاسی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے پاؤں تیزی سے جمائے۔

اس وقت امریکی خلائی شعبہ دو اہم ستونوں پر کھڑا ہے:

  1. دفاعی و تزویراتی پیش رفت: روس، چین اور دیگر عالمی حریفوں کی جانب سے سیٹلائٹ شکن ہتھیاروں (Anti-Satellite Weapons) اور سائبر چیلنجز کے مقابلے میں امریکی سیٹلائٹ نیٹ ورک، کمیونیکیشن اور ارلی وارننگ سسٹمز کا دفاع۔
  2. کمرشل سپیس انقلاب: اسپیس ایکس (SpaceX)، بلیو اوریجن (Blue Origin) اور سائے لوجی سسٹمز جیسی نجی کمپنیوں کی آمد سے خلائی سفر کی لاگت میں تاریخی کمی آئی ہے اور اس شعبے میں اربوں ڈالر کا تجارتی حجم پیدا ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ چاند کی سطح پر دوبارہ امریکی قدم جمانے کے ‘آرٹیمس پروگرام’ (Artemis Program) اور اس سے آگے مریخ پر انسان کو بھیجنے کے طویل المدتی عزائم کو حاصل کرنے کے لیے صرف پرانے پیٹرن پر کام نہیں چل سکتا، بلکہ اس کے لیے خلائی سائنس میں مہارت رکھنے والے ایک نئے عسکری و سائنسی طبقے کی ضرورت ہے۔

عالمی خلائی دوڑ اور تزویراتی اثرات

امریکہ کا سپیس اکیڈمی قائم کرنے کا یہ فیصلہ محض ایک تعلیمی یا اندرونی انتظامی عمل نہیں ہے، بلکہ اس کے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی جیو پولیٹکس پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • خلائی دوڑ میں شدت: چین اپنے خلائی اسٹیشن (تیانگونگ) اور قمری مشنز کے ذریعے جبکہ روس اپنی خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلسل امریکہ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایک الگ ملٹری سپیس اکیڈمی کی تشکیل اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن خلا کو مستقبل کا اہم ترین جنگی میدان (Warfighting Domain) تسلیم کر چکا ہے۔
  • دفاعی بجٹ اور وسائل: اس اکیڈمی کے لیے زمین کے انتخاب، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور نصاب کی تدوین کے لیے امریکی کانگریس سے خطیر رقم کی منظوری درکار ہوگی، جس سے انڈسٹریل اور ایجوکیشنل سیکٹر میں زبردست سرمایہ کاری دیکھنے کو ملے گی۔
  • بین الاقوامی خلائی قوانین: خلائی سرحدوں کی بڑھتی ہوئی فوجی کاری (Militarization of Space) پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ امریکہ کا یہ قدم دیگر عالمی طاقتوں کو بھی مجبور کرے گا کہ وہ اپنے خلائی دفاعی تعلیمی ڈھانچے کو اپ گریڈ کریں۔

حتمی جائزہ

ناسا کے جونسن سپیس سینٹر سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘یو ایس سپیس اکیڈمی’ کے قیام کا اعلان امریکہ کی خلائی پالیسی کا ایک سٹریٹجک سنگِ میل ہے۔ سپیس فورس کی مضبوطی، تجارتی خلائی اداروں کی تیز رفتاری اور چاند سے مریخ تک پھیلے بلند نظر امریکی منصوبوں کو پائیدار بنیادیں فراہم کرنے کے لیے یہ اکیڈمی ایک نرسری کا کام کرے گی۔ اگرچہ اس کے مکمل آپریشنل ہونے، بجٹ کی تخصیص اور کیمپس کے حتمی مقام جیسے امور طے ہونا ابھی باقی ہیں، تاہم یہ فیصلہ اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ 21ویں صدی میں زمین کے ساتھ ساتھ خلائی حدود کی بالا دستی کی جنگ میں بھی سب سے آگے رہنے کا پکا ارادہ رکھتا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025