اہم نکات:قرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شانگہائی تعاون تنظیم (SCO) کے 25 ویں سالانہ دو روزہ سربراہی اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن، چین کے صدر شی جن پنگ، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت ڈزن سے زائد عالمی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔تنظیم کی قائم شدہ 25 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والے اس اجلاس کا بنیادی مقصد علاقائی سیکیورٹی، معاشی تعاون اور مغرب کے یکطرفہ اثر و رسوخ کے مقابلے میں کثیر الجہتی عالمی نظام کو فروغ دینا ہے۔اس بلاک میں روس، چین، پاکستان، بھارت، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کی چار اہم ریاستیں شامل ہیں جو عالمی آبادی اور اقتصادیات کا بڑا حصہ ہیں۔بشکیک (خصوصی رپورٹ):قرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شانگہائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا دو روزہ سربراہی اجلاس پیر کے روز سے شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا کی اہم ترین طاقتوں کے سربراہان ایک ہی چھت تلے جمع ہو رہے ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن، چین کے صدر شی جن پنگ، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت درجن سے زائد دیگر ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت اس تاریخی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں انعقاد پذیر ہو رہا ہے جب تنظیم اپنی تئیس سے پچیس سالہ پیش رفت اور کامیابیوں کا جشن منا رہی ہے۔ عالمی سیاسی اور معاشی ناہمواریوں کے دور میں اس اجلاس کو مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک مضبوط، خود مختار اور کثیر الجہتی علاقائی بلاک کی تشکیل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اجلاس کا پس منظر اور شانگہائی تعاون تنظیم کا سفرشانگہائی تعاون تنظیم (SCO) کی بنیاد 2001 میں چین اور روس نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مل کر رکھی تھی تاکہ سرحدی تنازعات کو حل کیا جا سکے اور خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بالخصوص دہشت گردی، انتہا پسندی اور الگ الگ پسندی سے نمٹا جا سکے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تنظیم محض سیکیورٹی فورم سے نکل کر ایک جامع سیاسی اور معاشی بلاک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں اس تنظیم کا دائرہ کار وسیع ہوا ہے:ابتدائی اراکین: چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان۔توسیع کے اہم مراحل: 2017 میں پاکستان اور بھارت کی باقاعدہ شمولیت نے اس بلاک کو جنوب ایشیائی خطے سے جوڑ دیا۔ بعد ازاں ایران اور بیلاروس کی مکمل رکنیت نے اس کی جیو پولیٹیکل وزن کو مزید بڑھا دیا ہے۔آج یہ بلاک یوریشیائی خطے کے اہم ترین مالیاتی اور دفاعی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر یکطرفہ پابندیوں اور بلاک پولیٹکس کا متبادل فراہم کرنا ہے۔بشکیک اجلاس کا ایجنڈا اور متوقع فیصلےبشکیک میں ہونے والے اس افتتاحی اور وزارتی سیشنز میں عالمی و علاقائی نوعیت کے متعدد اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:علاقائی سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی: تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ساخت (RATS) کو مزید فعال بنانے اور رکن ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنانا۔مقامی کرنسیوں میں تجارت: امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو مقامی کرنسیوں میں فروغ دینے کے فریم ورک کی منظوری۔ٹرانسپورٹ اور انرجی راہداری: سی پیک (CPEC) اور نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور سمیت وسطی ایشیا کو جنوب ایشیا اور یورپ سے جوڑنے والے توانائی اور مواصلاتی منصوبوں کی ترویج۔مشترکہ اقتصادی بیانیہ: یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کے خلاف ایک متفقہ سیاسی اور معاشی حکمتِ عملی کا قیام۔حقائق اور رکن ممالک کا خاکہشانگہائی تعاون تنظیم عالمی سطح پر ایک بہت بڑا جغرافیائی اور ڈیموگرافک اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ ذیل میں اس بلاک کے بنیادی ساخت کا خاکہ پیش کیا گیا ہے:عنصر / تفصیلصورتحال / شرحمیزبانیبشکیک، قرغزستانکل اراکین10 اہم اراکین (چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران، بیلاروس، 4 وسطی ایشیائی ممالک)عالمی آبادی کا احاطہدنیا کی کل آبادی کا 40 فیصد سے زائدعالمی جی ڈی پی (GDP)عالمی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 20 سے 25 فیصدبنیادی منشورعلاقائی امن، معاشی تعاون، اور کثیر الجہتی عالمی نظامپاکستان کی شرکت اور سفارتی اہمیتپاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا اس اجلاس میں شرکت کرنا پاکستان کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سفارت کاری کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان ایس سی او کے پلیٹ فارم کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو استوار کرنے اور گوادر بندرگاہ کے ذریعے خطے کو سمندری راستے فراہم کرنے کے لیے ایک کلیدی موقع سمجھتا ہے۔سربراہی اجلاس کے حاشیے (Side-lines) پر پاکستانی وزیر اعظم کی روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ تجارت، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی امن پر اہم بات چیت کی جائے گی۔عالمی جیو پولیٹیکل اثراتمغربی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی اداروں کی نظریں بشکیک اجلاس پر جم گئی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس اور ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے پس منظر میں، چین اور دیگر رکن ممالک کا اکٹھا ہونا عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی ایک واضح کوشش دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ ایس سی او اپنے منشور میں خود کو کسی کے خلاف ملٹری الائنس نہیں کہتی، لیکن روس، چین، اور ایران کی موجودگی اسے خود بخود مغرب کے قائم کردہ مالیاتی اور سیاسی فریم ورک کے مقابلے میں ایک بڑا پلیٹ فارم بنا دیتی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ‘بشکیک اعلامیہ’ جاری کیا جائے گا جس میں آنے والے برسوں کے لیے اس بلاک کے اسٹریٹجک اہداف کی سمت متعین کی جائے گی۔ایڈیٹوریل نوٹیہ آرٹیکل قرغزستان سے موصول ہونے والے سرکاری بیانات اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی تصدیق شدہ تفصیلات کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ اجلاس کے حتمی اعلامیے اور دوطرفہ ملاقاتوں کے نتائج سامنے آنے پر خبر کو مزید اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبھارت: مدھیہ پردیش میں چار ہاتھوں اور چار ٹانگوں والے بچے کی ولادت، اسپتال میں لوگوں کا تانتا بندھ گیا نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: اموات 903 ہو گئیں، ہزاروں افراد لاپتہ اور ہائیڈرو پاور سرنگوں میں محصور متبادل ریسکیو آپریشن تیز