Preloader
Applications for pink electric scootee program

اہم نکات

  • عوامی ردعمل: سندھ حکومت کے پنک الیکٹرک اسکوٹی پروگرام کو خواتین کی جانب سے زبردست پذیرائی، اب تک 50 ہزار سے زائد درخواستیں موصول۔
  • مفت تقسیم: اب تک 810 سے زائد الیکٹرک اسکوٹیز تقسیم، جن میں کراچی میں 410، سکھر میں 200 اور حیدرآباد میں 200 اسکوٹیز شامل ہیں۔
  • تربیت کا سلسلہ: 2 ہزار سے زائد خواتین کو ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی تربیت فراہم، صوبے کے تمام بڑے شہروں میں تربیتی مراکز فعال۔
  • معاشی اثرات: اسکوٹی پروگرام کا مقصد خواتین کے لیے سفری سہولیات آسان بنانا اور انہیں تعلیمی و معاشی میدان میں خودمختار بنانا ہے۔

کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے خواتین کو خودمختار بنانے اور ان کے لیے سفری سہولیات کو آسان اور محفوظ بنانے کے مقصد سے شروع کیے گئے “پنک الیکٹرک اسکوٹی و ٹریننگ پروگرام” کو صوبہ بھر کی خواتین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق اس جدید اور منفرد منصوبے کے تحت الیکٹرک اسکوٹی کے حصول اور ڈرائیونگ تربیت کے لیے اب تک 50 ہزار سے زائد خواتین اپنی درخواستیں جمع کروا چکی ہیں۔

یہ اقدام صوبائی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت خواتین کو نہ صرف ٹرانسپورٹ کے نظام میں بااختیار بنانا ہے بلکہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دے کر بڑھتی ہوئی آلودگی اور ایندھن کے اخراجات میں کمی لانا بھی ممکن بنانا ہے۔

پروگرام کے اہم اعداد و شمار اور موجودہ صورتحال

حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس منصوبے کے پہلے مرحلے اور تربیتی نشستوں کے نتائج درج ذیل ہیں:

  • کل درخواستیں: صوبے بھر سے 50,000 سے زائد خواتین نے پروگرام میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے رجسٹریشن کروائی ہے۔
  • تربیت یافتہ خواتین: اب تک 2,000 سے زائد خواتین ڈرائیونگ اور روڈ سیفٹی سے متعلق کامیابی سے تربیت مکمل کر چکی ہیں۔
  • تقسیم شدہ اسکوٹیز: شفاف طریقہ کار کے تحت اب تک 810 سے زائد خواتین کو مفت الیکٹرک اسکوٹیز کی چابیاں فراہم کی جا چکی ہیں۔
  • شہروں کے لحاظ سے اسکوٹی کی تقسیم:
    • کراچی: 410 الیکٹرک اسکوٹیز
    • سکھر: 200 الیکٹرک اسکوٹیز
    • حیدرآباد: 200 الیکٹرک اسکوٹیز

تربیت کا دائرہ کار اور شہروں میں سہولیات

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ایک سب سے اہم پہلو خواتین کو محض اسکوٹی کی فراہمی نہیں بلکہ انہیں روڈ پر محفوظ طریقے سے ڈرائیونگ کرنے کی مکمل تربیت دینا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے تربیتی مراکز میں ڈرائیونگ، ٹریفک کے قوانین، اور بنیادی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

تربیت کا یہ سلسلہ نہ صرف صوبائی دارالحکومت کراچی تک محدود ہے بلکہ صوبے کے دیگر بڑے اور اہم شہروں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ اس وقت کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد (نوابشاہ) میں تربیتی مراکز کامیابی سے کام کر رہے ہیں، جہاں روزانہ کی بنیاد پر خواتین کو باضابطہ لائسنس کے حصول کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

پس منظر: سندھ میں خواتین کی ٹرانسپورٹ کے مسائل

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی ملازمت پیشہ اور طالبات کے لیے روزمرہ سفر ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں گنجائش کی کمی، نامناسب ماحول اور مہنگے پٹرول نے خواتین کی نقل و حرکت اور ان کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کر رکھا تھا۔

سندھ حکومت نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے “پنک بس سروس” متعارف کروائی، جسے عوامی سطح پر بے حد سراہا گیا۔ تاہم، پبلک ٹرانسپورٹ کی پہنچ سے دور یا ذاتی سواری کی خواہش مند خواتین کے لیے “پنک الیکٹرک اسکوٹی پروگرام” کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ وہ اپنے مقررہ اوقات اور سفر کی ضرورت کو اپنی مرضی سے پورا کر سکیں۔

صوبائی معیشت اور ماحولیات پر مثبت اثرات

یہ منصوبہ محض سفری سہولت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں:

1۔ معاشی خودمختاری: خواتین کا سفر پر انحصار ختم ہونے سے وہ ملازمت اور کاروبار کے نئے مواقع حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ سفری اخراجات میں کمی کے باعث ان کی ماہانہ بچت میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔

2۔ ماحول دوست اقدام: الیکٹرک اسکوٹی پٹرول پر نہیں بلکہ چارجنگ پر چلتی ہے، جس سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔ یہ اقدام عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نپٹنے کے حوالے سے ایک مثبت گام ہے۔

3۔ سڑکوں پر اعتماد: خواتین کا اتنی بڑی تعداد میں ٹریفک کا حصہ بننا معاشرتی رویوں میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے اور خواتین میں خود اعتمادی کو فروغ مل رہا ہے۔

حکومتی لائحہ عمل اور مستقبل کے اہداف

سینئر صوبائی وزیر نے اس بات کی دہانی کروائی کہ 50 ہزار سے زائد درخواستوں کا موصول ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں اس طرح کے اقدامات کی شدید ضرورت تھی۔ سندھ حکومت مرحلہ وار تمام قانونی اور تربیتی عمل مکمل کرنے والی خواتین کو اسکوٹیز کی فراہمی یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق، آنے والے دنوں میں اسکوٹی پروگرام کا دائرہ کار سندھ کے چھوٹے اضلاع اور دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا تاکہ وہاں کی طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

عوامی اور سماجی حلقوں کا ردعمل

مختلف سماجی تنظیموں، طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کی جانب سے حکومت سندھ کے اس قدم کو بے حد سراہا گیا ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک اسکوٹی ملنے سے ان کے روزمرہ کا سفر نہ صرف آسان ہو گیا ہے بلکہ کرائے کی مد میں خرچ ہونے والی رقم اب دیگر اہم ضروریات پر استعمال ہو رہی ہے۔

صحافتی اور سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس منصوبے کو بلا تعطل اور شفافیت کے ساتھ جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف سندھ بلکہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک بہترین ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025