بھارت کی پہلی مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ بلٹ ٹرین کی آزمائشی سروس (ٹرائل رن) مئی یا جون میں شروع ہونے کی توقع ہے۔آزمائشی مراحل کے کامیاب انعقاد کے بعد محض دو سے چار ماہ کے اندر تجارتی آپریشنز (عوام کے لیے سروس) کا آغاز کر دیا جائے گا۔بھارتی ریلوے کے وفاقی وزیر اشونی ویشنو نے اس پیش رفت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ٹرین کا پہلا باڈی فریم تیار کر کے ‘سکویز ٹیسٹنگ’ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔اس منصوبے کو ملک کے انفراسٹرکچر اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک عظیم الشان پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔نئی دہلی / وڈوڈرا: بھارت کی پہلی مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ہائی سپیڈ بلٹ ٹرین کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور اس کی آزمائشی پرواز یعنی ٹرائل رن آئندہ سال مئی یا جون کے مہینے میں شروع کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ بھارت کے وفاقی وزیر برائے ریلوے، اشونی ویشنو نے گجرات کے شہر وڈوڈرا میں منعقدہ “نمو فار وکست بھارت” (NaMo for Viksit Bharat) تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا باضابطہ اعلان کیا۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ بلٹ ٹرین کا پہلا باڈی فریم کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے اور اسے سٹرکچرل मजबूती اور سیکیورٹی کی جانچ کے لیے “سکویز ٹیسٹنگ” (Squeeze Testing) کے مرحلے سے گزارا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام آزمائشی مراحل طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق مکمل ہو گئے تو ٹرائلز شروع ہونے کے دو سے چار ماہ کے اندر ٹرین کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔تکنیکی پیش رفت اور سکویز ٹیسٹنگ کا مرحلہہائی سپیڈ ریل ٹیکنالوجی میں ٹرین کے ڈھانچے یعنی باڈی فریم کی مضبوطی سب سے بنیادی عنصر سمجھی جاتی ہے۔ ‘سکویز ٹیسٹنگ’ ایک ایسا تکنیکی عمل ہے جس میں ٹرین کے ساخت پہ انتہائی شدید دباؤ ڈال کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ تیز رفتاری، ہنگامی بریکنگ یا کسی حادثے کی صورت میں ٹرین کا باڈی فریم کتنا دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔وفاقی وزیر اشونی ویشنو نے تقریب کے دوران صحافیوں اور شائقین کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:“بھارت اب محض غیر ملکی ٹیکنالوجی کا مرہونِ منت نہیں رہا، بلکہ ہماری ریلوے انجینئرنگ کی ٹیموں نے رات دن محنت کر کے اعلیٰ ترین معیار کا مقامی باڈی فریم تیار کیا ہے۔ پہلا فریم ٹیسٹنگ کیبن میں پہنچ چکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری ڈیزائننگ اور مینوفیکچرنگ بین الاقوامی معائیر پر پورا اترتی ہے۔”منصوبے کا پس منظر اور جاپان سے تعاونبھارت میں بلٹ ٹرین یعنی ممبئی-احمد آباد ہائی سپیڈ ریل راہداری (MAHSR) کا خواب کئی سال پہلے دیکھا گیا تھا۔ اس منصوبے کا آغاز جاپان کی مشہورِ زمانہ “شینکانسن” (Shinkansen) بلٹ ٹرین ٹیکنالوجی کی شراکت داری اور جاپانی مالیاتی ادارے (JICA) کی معاونت سے ہوا تھا۔ابتدائی طور پر مکمل ٹیکنالوجی جاپان سے درآمد کی جانی تھی، لیکن حکومت کی “میک ان انڈیا” (Make in India) اور “خود کفیل بھارت” کی پالیسی کے تحت مقامی سطح پر ہائی سپیڈ ٹرینوں کی ڈیزائننگ اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا گیا۔ موجودہ پیش رفت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے تحت بھارتی انجینئرز نے جاپانی ٹیکنالوجیکل ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی ماحول اور ضروریات کے مطابق بلٹ ٹرین کا فریم خود ڈیزائن کیا ہے۔بلٹ ٹرین منصوبے کے اہم اعداد و شماراس میگا انفراسٹرکچر اور ہائی سپیڈ ریل پروجیکٹ کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:کل مسافت: ممبئی سے احمد آباد کے درمیان بلٹ ٹرین کا کل روٹ تقریباً 508 کلومیٹر طویل ہے۔متوقع رفتار: اس ٹرین کی آپریشنل رفتار 320 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی، جبکہ اس کا ڈیزائن 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔سفر کے وقت میں کمی: ممبئی اور احمد آباد کے درمیان عام ٹرینوں سے سفر میں 6 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں، لیکن بلٹ ٹرین کے ذریعے یہ سفر محض 2 سے 2.5 گھنٹے میں طے ہوگا۔زیرِ زمین سمندری سرنگ: اس روٹ میں 21 کلومیٹر طویل سرنگ بھی شامل ہے جس کا 7 کلومیٹر کا حصہ سمندر کے نیچے (Thane Creek) سے گزرے گا۔ریلوے اسٹیشنز: اس راہداری پر کل 12 اسٹیشن بنائے جا رہے ہیں، جن میں ممبئی، تھانے، واپی، سورت، وڈوڈرا اور احمد آباد شامل ہیں۔معاشی اثرات اور سفری سہولیات میں انقلاببلٹ ٹرین منصوبے کو محض ایک تیز رفتار ٹرین سروس کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ بھارت کے اقتصادی منظر نامے میں ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔1. تجارتی اور صنعتی مراکزی کا ملاپ: مہاراشٹر اور گجرات بھارت کے دو سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی صوبے ہیں۔ ممبئی ملک کا مالیاتی مرکز ہے جبکہ گجرات کا شمار ٹیکسٹائل، ڈائمنڈ اور مینوفیکچرنگ کی ہب کے طور پر ہوتا ہے۔ ان دونوں خطوں کے درمیان تیز رفتار رابطہ دونوں ریاستوں کی تجارتی سرگرمیوں کو ایک نیا تحرک دے گا۔2. روزگار کے نئے مواقع: ریلوے حکام کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر، دیکھ بھال اور تجارتی آپریشنز سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ ہنر مند اور ٹیکنیکل ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔3. کاربن کے اخراج میں کمی: ہوائی جہاز اور سڑک کے ذریعے سفر کے مقابلے میں الیکٹرک بلٹ ٹرین انتہائی ماحولیات دوست ذریعہ آمدورفت ثابت ہوگی، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ڈرامائی کمی آئے گی۔آئندہ کا لائحہ عمل اور چیلنجزاگرچہ مئی یا جون میں ٹرائلز شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اتنے بڑے پروجیکٹ میں کچھ چیلنجز بھی برقرار ہیں۔ زمین کے حصول کے مسائل، مختلف جغرافیائی خطوں میں تعمیرا تی پیچیدگیاں اور اعلیٰ درجے کے سیکیورٹی ایس او پیز کی تیاری ایسے عوامل ہیں جن پر انتظامیہ کو باریک بینی سے کام کرنا ہوگا۔وزیرِ ریلوے اشونی ویشنو نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تکنیکی آڈٹس اور سیکیورٹی کلیئرنسز کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریلوے اب عالمی معیار کے ریل نیٹ ورک کی طرف تیزی سے گامزن ہے، اور آئندہ سال کا ٹرائل رن بھارت کی انجینئرنگ اور تکنیکی تاریخ میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا۔عوام اور سفری صنعت سے وابستہ افراد بے صبری سے آئندہ سال کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ملک میں ہائی سپیڈ ریل سروس کے ایک نئے اور جدید دور کا باقاعدہ آغاز دیکھا جا سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationحوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد زخمی، سعودی عرب کا منہ توڑ جوابی کارروائی کا اعلان: خطے میں کشیدگی کا نیا موڑ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری پر برطانوی پابندیاں: لندن اور تل ابیب کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار