Preloader
No orders observation from Commissioner

اہم نکات (مختصر خلاصہ)

  • حکومتی احکامات کی خلاف ورزی: کمشنر ہزارہ ڈویژن کی جانب سے صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانے کے واضح احکامات کے باوجود ٹی ایم اے (TMA) انتظامیہ کی جانب سے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے۔
  • پیپل والی بن کچرا کنڈی میں تبدیل: کوٹ نجیب اللہ کا اہم عوامی مقام ‘پیپل والی بن’ کچرے کے ڈھیروں کی زد میں آ چکا ہے، جہاں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔
  • صحت عامہ کو شدید خطرات: کچرے کو جلانے سے اٹھنے والے زہریلے دھوئیں اور خطرناک مچھروں کی بھرمار کی وجہ سے قریبی آبادی اور ملحقہ مسجد شریف کے نمازیوں میں سانس، پھیپھڑوں اور وبائی امراض پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
  • عوامی مطالبہ: اہلیانِ علاقہ نے کمشنر ہزارہ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر ہری پور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے کچرے کو مستقل بنیادوں پر اٹھایا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

کوٹ نجیب اللہ (خصوصی رپورٹ)

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے قصبے کوٹ نجیب اللہ میں بلدیاتی نظام کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کا ایک اور ہولناک منظر سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت صوبے بھر میں صفائی ستھرائی، ماحولیاتی بہتری اور شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنے کے دعوے کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) کی بے حسی نے ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کے احکامات کو صریحاً ہوا میں اڑا دیا ہے۔

چند روز قبل کمشنر ہزارہ ڈویژن نے ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو انتہائی سخت اور واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں صفائی کے انتظامات کو ہنگامی بنیادوں پر درست کریں، گندگی کے ڈھیروں کا خاتمہ کریں اور کچرے کو ریگولر طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ تاہم، ان احکامات کو آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کوٹ نجیب اللہ کے مرکزی عوامی مقام ‘پیپل والی بن’ کو عملاً ایک بڑی کچرا کنڈی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پیپل والی بن: ایک عوامی مقام سے کچرا کنڈی تک کا سفر

‘پیپل والی بن’ جو کہ ماضی میں مقامی شہریوں کے بیٹھنے، آنے جانے اور سماجی سرگرمیوں کا ایک معروف مقام ہوا کرتا تھا، آج اپنی حالتِ زار پر آنسو بہا رہا ہے۔ ٹی ایم اے کی صفائی مہم کے نام پر نالوں اور محلوں سے اٹھایا جانے والا کچرا اسی جگہ پر ڈمپ کیا جا رہا ہے، جس سے پورے علاقے میں تعفن پھیل چکا ہے۔

اس مقام کے اردگرد کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے:

  1. کچرے کے انبار: جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے بڑے بڑے پہاڑ بن چکے ہیں جن پر آوارہ کتے اور مکھیاں ہر وقت منڈلاتے رہتے ہیں۔
  2. ملحقہ مسجد شریف: اسی مقام کے بالکل ساتھ ایک تاریخی اور فعال مسجد شریف واقع ہے، جہاں روزانہ پانچ وقت نمازیوں کو شدید بدبو اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  3. زہریلا دھواں: مقامی ذرائع کے مطابق ٹی ایم اے کا عملہ کچرے کو اٹھانے کے بجائے اکثر اسی مقام پر اسے آگ لگا دیتا ہے، جس سے اٹھنے والا کالا اور زہریلا دھواں پوری قریبی آبادی بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے سینوں میں اتر رہا ہے۔
  4. خطرناک مچھروں کی بہتات: کھڑے پانی اور گندگی کے باعث ڈینگی اور ملیریا کے مچھروں کی افزائش تیزی سے ہو رہی ہے جس سے وبائی امراض کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔

پس منظر: صفائی کے دعوے اور بلدیاتی اداروں کی حقیقت

بلدیاتی نظام (TMA) کا بنیادی مقصد شہروں اور قصبات میں صفائی، سینیٹیشن، سٹریٹ لائٹس اور تجاوزات کا خاتمہ کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز اور بھاری بھرکم عملہ بھی محکمہ کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، کوٹ نجیب اللہ جیسے گنجان آباد علاقے میں اس نوعیت کی غفلت اس بات کی غماز ہے کہ فنڈز کی غیر شفاف تقسیم اور مانیٹرنگ کے موثر نظام کی کمی کس طرح عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہی ہے۔

کمشنر ہزارہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ احکامات کا مقصد سیاحتی سیزن اور مقامی آبادی کو صحت مند ماحول فراہم کرنا تھا، لیکن نچلی سطح پر موجود بیوروکریسی اور فیلڈ عملے کی لاپرواہی نے ان تمام احکامات کو کاغذ کا ٹکڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ٹی ایم اے کی یہ روش نہ صرف قانون کی نافرمانی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور صحت عامہ کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔

صحت عامہ پر اثرات اور شہریوں کی شدید تشویش

ماہرینِ صحت کے مطابق کچرے کے ڈھیروں کو جلانے سے جو ڈائی آکسین اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں، وہ انسانی جسم کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔

  • سانس کی بیماریاں: اس دھوئیں کی وجہ سے استمہ (دمہ)، برونکائٹس اور پھیپھڑوں کے دائمی امراض میں مبتلا افراد کا سانس لینا محال ہو چکا ہے۔
  • بچوں اور خواتین پر اثرات: گھروں کے قریب کچرا ہونے کی وجہ سے چھوٹے معصوم بچے وائرل انفیکشن، خارش اور پیٹ کی بیماریوں (ہیضہ، پیچش) کا شکار ہو رہے ہیں۔
  • نفسیاتی دباؤ: گندگی کے اس ڈھیر نے علاقے کے ماحول کو اتنا آلودہ کر دیا ہے کہ شہریوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔

علاقے کے معززین، تاجروں اور مکینوں نے اس صورتحال پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر محکمہ نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ سڑکوں پر نکلنے اور احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔

عوامی مطالبہ اور آئندہ کا لائحہ عمل

اہلیانِ کوٹ نجیب اللہ نے کمشنر ہزارہ ڈویژن اور ڈپٹی کنشنر ہری پور سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے:

  • فوری صفائی آپریشن: ‘پیپل والی بن’ سے فوری طور پر تمام کچرے کے ڈھیر اٹھائے جائیں اور اس مقام کو مکمل طور پر صاف کر کے جراثیم کش اسپرے کیا جائے۔
  • کچرا جلانے پر پابندی: کچرے کو آگ لگانے والے عملے کے خلاف محکمانہ انکوائری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
  • ڈمپنگ سائٹ کی منتقلی: شہر کے وسط یا عوامی مقامات کے قریب کچرا پھینکنے کے اس غیر قانونی عمل کو مستقل طور پر بند کیا جائے اور کچرے کے لیے آبادی سے دور کوئی مناسب مقام مقرر کیا جائے۔
  • انتظامیہ کی جوابدہی: کمشنر ہزارہ کے احکامات عدولی کرنے والے ذمہ داران کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

حکومتِ وقت اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس فوری بحران کا نوٹس لے، بصورت دیگر کسی بھی بڑے وبائی مرض کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ بلدیاتی حکام پر عائد ہوگی۔

نیوز ڈیسک: مقامی رپورٹر، کوٹ نجیب اللہ / ہری پور