Preloader
Governor headed the meeting of KPEZDMC

اہم نکات (مختصر خلاصہ)

  • اعلیٰ سطحی اجلاس: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (KPEZDMC) کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مشیر صنعت اور سیکرٹری صنعت سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
  • صنعتی وسعت اور روزگار: صوبے میں اس وقت 15 اکنامک زونز فعال ہیں جبکہ 7 نئے زونز قائم کیے جائیں گے؛ ان زونز کی بدولت اب تک تقریباً 1 لاکھ 7 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہو چکے ہیں۔
  • سرمایہ کاری اور ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’: گورنر خیبرپختونخوا نے نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی اور ایز آف ڈوئنگ بزنس پالیسی کے تحت ضوابط کو انتہائی آسان بنانے کی ہدایت کی۔
  • حکمت عملی اور مسائل کا حل: امن و امان کے درپیش چیلنجز، زمینوں کی خریداری کے مالیاتی مسائل، اور وفاقی و صوبائی محکموں سے متعلق التوا کا شکار معاملات کے فوری تصفیے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت۔

پشاور (خصوصی رپورٹ)

صوبہ خیبرپختونخوا کو صنعتی و معاشی طور پر خودکفیل بنانے اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے صوبائی سطح پر اعلیٰ ترین انتظامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (KPEZDMC) کا ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی مشیر برائے صنعت محمد ارشاد، سیکرٹری صنعت اور کمپنی کے اعلیٰ حکام سمیت مختلف متعلقہ شعبہ جات کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں موجود اور مجوزہ اکنامک زونز کے انتظامی ڈھانچے، کارکردگی، کامیابیوں، مستقبل کے اہداف اور حائل چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے اس موقع پر صوبے میں صنعتی نمو کے بے پناہ امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ایک جامع، جدید اور قابلِ عمل حکمت عملی پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صنعتی پیش رفت اور KPEZDMC کی بریفنگ کے اہم اعداد و شمار

اجلاس کے دوران KPEZDMC کے حکام نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے کی صنعتی ترقی، محاصل اور نئے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں پیش کیے گئے اہم اعداد و شمار اور اہم پیش رفت مندرجہ ذیل ہیں:

  • فعال اکنامک زونز: خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں اس وقت 15 اکنامک زونز کامیابی سے فعال ہیں، جہاں متعدد ملکی و مقامی صنعتی یونٹس کام کر رہے ہیں۔
  • توسیعی منصوبے: صوبے میں صنعتی دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے 7 نئے اکنامک زونز قائم کرنے کی منظوری اور بنیادی کام جاری ہے۔
  • روزگار کی فراہمی: فعال اکنامک زونز کے ذریعے صوبے میں اب تک تقریباً 1 لاکھ 7 ہزار (107,000) مستقیم اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔
  • مستقبل کے کلیدی منصوبے: بریفنگ میں خاص طور پر یکہ غنڈ ماربل سٹی، کاٹلنگ اکنامک زون اور دیگر مجوزہ صنعتی منصوبوں کے خدوخال اور پیش رفت سے آراستہ کیا گیا۔

سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول اور ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں قدرتی وسائل اور محنت کش افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں ہے، تاہم ان وسائل کو استعمال میں لانے کے لیے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے حکام کو سخت ہدایت جاری کی کہ:

  1. سازگار ماحول: ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا کی جانب راغب کرنے کے لیے بنیادی سہولیات سے آراستہ اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
  2. ایز آف ڈوئنگ بزنس (Ease of Doing Business): سرمایہ کاری کی راہ میں حائل سرخ فیتہ شاہی (Red Tapism) کا خاتمہ کیا جائے اور این او سی (NOC) سمیت دیگر قانونی مرحلوں کو ایز آف ڈوئنگ بزنس پالیسی کے تحت سادہ اور آسان بنایا جائے۔
  3. صنعتی ترغیبات: صوبے میں نئی صنعتیں لگانے والے تاجروں کے لیے ٹیکس اور دیگر انتظامی مراعات کی راہ ہموار کی جائے۔

حائل چیلنجز: زمینوں کی خریداری، مالیات اور امن و امان

بریفنگ کے دوران گورنر کو بعض اکنامک زونز کو درپیش انتظامی، مالیاتی اور سیکیورٹی چیلنجز سے بھی تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ خاص طور پر نئے زونز کے لیے زمینوں کی خریداری اور ادائیگیوں میں درپیش تاخیر کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

اس حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:

  • محکمہ خزانہ کے ساتھ رابطہ: زمینوں کی خریداری اور ادائیگیوں کے التوا کو ختم کرنے کے لیے KPEZDMC اور محکمہ صنعت، صوبائی محکمہ خزانہ کے ساتھ مل بیٹھ کر فوری اور قابلِ عمل مالیاتی تجاویز تیار کریں۔
  • امن و امان اور سیکیورٹی خدشات: بعض اکنامک زونز ایسے حساس علاقوں میں واقع ہیں جہاں امن و امان کے مسائل کی وجہ سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ گورنر نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لے کر ترجیحی بنیادوں پر حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ یہ زونز بھی مکمل طور پر فعال ہو سکیں۔
  • قانونی اور مالیاتی تنازعات: زیرِ التوا قانونی مقدمات اور مالیاتی تنازعات کو نمٹانے کے لیے قانونی کارروائی تیز کی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔

بین المحکمانہ ہم آہنگی اور وفاق سے رابطے کا عزم

گورنر خیبرپختونخوا نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ مختلف محکموں کے درمیان عدم ہم آہنگی کے باعث کئی صنعتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ تمام متعلقہ صوبائی محکموں کا مشترکہ اجلاس بلا کر درپیش رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے۔

مزید برآں، فیصل کریم کنڈی نے یقین دہانی کرائی کہ اکنامک زونز سے متعلق جن معاملات کا تعلق وفاقی حکومت، وزارتِ ڈکلیئریشن یا وفاقی محکموں (مثلاً این ایچ اے، پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، یا گیس نیٹ ورک) سے ہے، انہیں وہ خود وفاقی سطح پر اٹھائیں گے تاکہ بجلی و گیس کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہو سکیں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ اور مستقبل پر اثرات

خیبرپختونخوا جیسے صوبے کے لیے، جو پچھلی چند دہائیوں سے سیکیورٹی کے مسائل اور معاشی سست روی کا شکار رہا ہے، اکنامک زونز کی فعالیت اور وسعت ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ 15 فعال زونز کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر تسلسل کے ساتھ پالیسیاں بنائی جائیں تو صوبائی معیشت کو پٹری پر لایا جا سکتا ہے۔

7 نئے زونز، بالخصوص یکہ غنڈ ماربل سٹی جیسے منصوبوں کی بروقت تکمیلیت سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار پیدا ہوگا بلکہ خیبرپختونخوا کی برآمدات (Exports) میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، ان اہداف کے حصول کے لیے گورنر کی ہدایت کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان قریبی تعاون اور سیکیورٹی خدشات کا پائیدار حل نکالنا بنیادی شرط رہے گا۔

نیوز ڈیسک: بزنس اینڈ اکنامک افیئرز ڈیسک