Preloader
Major General Rashid Mehmood died by heart attack

خبر کے اہم نکات

  • المناک خبر: پاک فوج کے سینئر افسر میجر جنرل راشد محمود اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
  • فوری طبی امداد ناکام: تشویشناک حالت میں ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔
  • نمازِ جنازہ اور تدفین: ملٹری اعزازات کے ساتھ نمازِ جنازہ کی ادائیگی، جس میں اعلٰی عسکری و سول قیادت، ساتھی افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
  • دفاعی خدمات پر خراجِ تحسین: عسکری و سیاسی قیادت کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار، پاک فوج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف۔

عسکری حلقوں میں غم کی لہر: ایک لائق افسر کی مفارقت

پاکستان کی مسلح افواج کے لیے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں پاک فوج کے باصلاحیت اور پیشہ ور افسر میجر جنرل راشد محمود ناگہانی طور پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی اچانک وفات کی خبر کے ساتھ ہی عسکری و سول حلقوں، دوست احباب اور لواحقین میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔

میجر جنرل راشد محمود کا شمار پاک فوج کے انتہائی محنتی، فرض شناس اور قابلِ قدر افسران میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ملکی دفاع، ملٹری حکمتِ عملی اور وطنِ عزیز کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کا یوں اچانک جدا ہو جانا نہ صرف ان کے خاندان بلکہ مسلح افواج کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

واقعے کی تفصیلات اور طبی صورتحال

ذرائع اور عسکری شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، میجر جنرل راشد محمود کو اچانک سینے میں شدید تکلیف اور دم گھٹنے کی شکایت ہوئی، جس پر انہیں فوری طور پر قریب ترین ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ہسپتال کے شعبہ حادثات اور ماہرینِ قلب کی ٹیم نے انہیں فوری طبی امداد فراہم کی اور ان کی زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ تاہم، دل کا دورہ اس قدر شدید تھا کہ وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ڈاکٹروں نے حتمی طور پر ان کی موت کی وجہ کارڈیو ویسکولر اریسٹ (شدید قلبی دورہ) قرار دی ہے۔

ان کی ناگہانی وفات کے بعد ہسپتال کا ماحول انتہائی سوگوار ہو گیا، جہاں ان کے ساتھی افسران اور قریبی عزیز و اقارب بڑی تعداد میں پہنچنا شروع ہو گئے۔

میجر جنرل راشد محمود کی فوجی خدمات اور کیریئر پر ایک نظر

میجر جنرل راشد محمود کا عسکری کیریئر شاندار کامیابیوں، پیشہ ورانہ مہارت اور ملک و قوم سے بے لوث محبت سے عبارت ہے۔ انہوں نے اپنی سروس کے دوران مختلف اہم اور حساس عہدوں پر فرائض سرانجام دیے:

  • ابتدائی عسکری تربیت: انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے اپنی بنیادی تربیت مکمل کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمیشن حاصل کیا۔
  • کمانڈ اینڈ سٹاف پوزیشنز: اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف انفنٹری اور کمانڈ یونٹوں کی قیادت کی، جہاں انہوں نے اپنے ماتحتوں کے لیے بہترین رہنمائی اور نظم و ضبط کی مثالیں قائم کیں۔
  • اعلیٰ عسکری تعلیم: انہوں نے داخلی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف ملٹری کورسز اور اعلیٰ دفاعی تعلیم حاصل کی، جس نے ان کی حکمتِ عملی کی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی۔
  • دہشت گردی کے خلاف اقدامات: ملک میں امن و امان کی بحالی اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے مختلف عملیاتی (آپریشنل) اور تزویراتی (اسٹریٹجک) ذمہ داریوں میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے رفقائے کار انہیں ایک انتہائی نرم مزاج، رحم دل مگر ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے والے بہترین کمانڈر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

نمازِ جنازہ اور مکمل عسکری اعزازات کے ساتھ تدفین

مرحوم میجر جنرل راشد محمود کی نمازِ جنازہ میں عسکری روایت کے مطابق تمام باوقار مراتب اور احترامات کا اہتمام کیا گیا۔

نمازِ جنازہ میں مسلح افواج کے اعلیٰ ترین افسران، سول حکام، ریٹائرڈ جنرلز، اور مرحو م کے عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر فضا انتہائی سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشبار نظر آئی۔ پاک فوج کے ایک چاق و چوبند دستے نے ان کی میت کو سلامی دی اور قومی پرچم میں لپٹے ان کے جسدِ خاکی کو پور ے عسکری اعزازات کے ساتھ ان کی ابدی آرام گاہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

تدفین کے بعد شہداء اور مرحوم افسر کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصاً دعا کی گئی اور مسلح افواج کی جانب سے ان کی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔

سیاسی اور عسکری قیادت کا اظہارِ تعزیت

میجر جنرل راشد محمود کی اچانک رحلت پر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے شدید غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

  • عسکری قیادت: پاک فوج کی اعلیٰ کمان نے مرحوم کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “میجر جنرل راشد محمود ایک بہترین عسکری دماغ اور وطن کے سچے محافظ تھے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔”
  • سول و سیاسی شخصیات: صدرِ مملکت، وزیراعظم اور دیگر اہم سیاسی رہنماؤں نے تعزیتی پیغامات میں کہا کہ ملکی دفاع کے لیے مسلح افواج کے افسران کی قربانیاں اور محنت ناقابلِ فراموش ہیں، اور اس دکھ کی گھڑی میں پورا قوم غمزدہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔

نتیجہ

زندگی اور موت کا وقت طے شدہ ہے، لیکن کچھ شخصیات کی مفارقت قوم اور اداروں پر گہرے اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ میجر جنرل راشد محمود کی اچانک وفات عسکری ادارے کے لیے ایک بڑا خلا ہے جسے پر کرنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے جس پیشہ ورانہ اخلاق، وطن دوستی اور جذبے کے ساتھ ملک کی خدمت کی، وہ پاک فوج کے نوزائیدہ افسران کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)