آج، 5 نومبر 2026 کو، پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے تھانہ سٹی مانسہرہ میں درج ایف آئی آر نمبر 1140 میں نامزد تینوں ملزمان ملک وقاص، ملک سعد اور ملک افنان کی درخواستیں برائے ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دیں۔ سماعت کے دوران مدعی مقدمہ سلطان محمد کی جانب سے مہروز جمشید خان، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے عدالت کے روبرو دلائل پیش کیے۔ ایف آئی آر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468 اور 471 کے تحت درج ہے۔ مقدمے کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے خود کو آئی ایس آئی کے افسر ظاہر کر کے سرکاری ملازمتیں دلوانے کا جھانسہ دیا، مختلف افراد سے مجموعی طور پر تقریباً 85 لاکھ روپے وصول کیے اور مبینہ طور پر جعلی تقرری اور جوائننگ لیٹرز بھی فراہم کیے۔ مانسہرہ کے اس مقدمے میں مفرور ایک اور ملزم محمد نعمان کو لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی سے متعلق ویزا فراڈ کیس میں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق، وہ تھانہ رمنا کی حدود میں پولیس ٹیم پر فائرنگ کے دوران زخمی ہوا اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ مانسہرہ کے مقدمے میں تینوں نامزد ملزمان سے متعلق تفتیش جاری ہے۔ Post navigation مانسہرہ شہر کی خوبصورتی، کشادگی اور شہری نظم و ضبط کی بحالی کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری۔ سکول بند بچیاں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل جرنے پر مجبور