اہم نکات (خلاصہ) قیمتوں میں کمی اور ٹیکس میں رعایت: وفاقی حکومت نے عام گاڑیوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے اور الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کر کے محض 1 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کار فنانسنگ کی آسان شرائط: الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینک قرض کی حد 30 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے اور مدت 3 سال سے 5 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اون منی اور منافع خوری کا خاتمہ: گاڑیوں کی بکنگ کے وقت پیشگی ادائیگی کی حد 20 فیصد تک محدود کر دی گئی ہے تاکہ ناجائز منافع خوری کو روکا جا سکے۔ برآمدات اور پائیدار ہدف: اگلے 5 سالوں میں آٹو سیکٹر کی برآمدات کا ہدف 6 ارب ڈالر جبکہ 2030 تک ملک میں 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں آٹو صنعت کے نئے دور کا آغاز وفاقی حکومت نے ملک میں گاڑیوں کی سستے داموں فراہمی، مقامی صنعت کے فروغ اور ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کی ترویج کے لیے ایک ہمہ گیر اور جامع نئی آٹو پالیسی متعارف کرا دی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد عام شہریوں کے لیے گاڑی کا حصول آسان بنانا، پیٹرولیم مصنوعات کے بھاری درآمدی بل میں کمی لانا اور ملک کے اندر پیداواری صلاحیت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق اس پالیسی کے ذریعے جہاں ایک طرف کار خریداروں کو گراں قدر مراعات دی جا رہی ہیں، وہاں دوسری طرف غیر قانونی طور پر وصول کی جانے والی “اون منی” اور گاڑیوں کی تاخیر سے فراہمی جیسے دیرینہ مسائل کا خاتمہ بھی ممکن بنایا جائے گا۔ معاشی ماہرین اس قدم کو ملکی آٹو سیکٹر کے لیے ایک بڑا موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ٹیکسوں میں غیر معمولی چھوٹ اور مراعات کی تفصیلات نئی آٹو پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو الیکٹرک، ہائبرڈ اور ماحول دوست گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں کے نظام میں لائی جانے والی بنیادی تبدیلیاں ہیں۔ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کو عام کرنے کے لیے ٹیکس کی شرح کو کم ترین سطح پر لا کر خریداروں کو زبردست ریلیف دیا ہے۔ ٹیکس اور مراعات کے حوالے سے طے کردہ بنیادی اعداد و شمار مندرجہ ذیل ہیں: الیکٹرک گاڑیاں: خالص الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو گھٹا کر صرف 1 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں: رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز پیش کی گئی ہے (جو عالمی مالیاتی ادارے کی حتمی منظوری سے مشروط ہے)۔ اضافی ڈیوٹیوں کا خاتمہ: 50 ہزار امریکی ڈالر تک کی قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی)، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ چارجنگ اسٹیشنز کے لیے سہولیات: ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے لیے بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور اسٹیشنز قائم کرنے والے سرمایہ کاروں کو خصوصی رعایتیں اور آسان قرضے دیے جائیں گے۔ کار فنانسنگ کی حد میں اضافہ اور اون منی پر قدغن عام آدمی اور متوسط طبقے کے لیے گاڑیوں کی خریداری کو ممکن بنانے کے لیے حکومت نے بینکوں کے ذریعے قرضہ جات کی فراہمی کے ضوابط کو بھی لچکدار بنایا ہے۔ اس سے قبل کار فنانسنگ پر عائد سخت شرائط کے باعث شہریوں کے لیے گاڑی کی قسطیں ادا کرنا اور ابتدائی رقم جمع کرانا انتہائی مشکل ہو چکا تھا۔ نئے بینکنگ ضوابط اور تجارتی شفافیت کے اہم نکات درج ذیل ہیں: قرض کی حد میں اضافہ: الیکٹرک گاڑیوں کی خرید کے لیے کار فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ قسطوں کی طویل مدت: گاڑی کی واپسی ادائیگی کا دورانیہ 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دیا گیا ہے تاکہ ماہانہ قسط کا بوجھ کم ہو۔ پیشگی ادائیگی پر پابندی: گاڑیوں کی بکنگ پر پیشگی رقم (ایڈوانس پیمنٹ) کسی بھی صورت کل قیمت کے 20 فیصد سے زائد نہیں ہوگی، تاکہ مارکیٹ میں گاڑیوں کی مصنوعی نایابی پیدا کر کے اون منی وصول کرنے والے گروہوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ مقامی پیداوار اور 6 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حکومت کی اس نئی پالیسی کا ایک اہم ستون ملک کے اندر گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری اور برآمدی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اس وقت پاکستان کی آٹو انڈسٹری کا بڑا انحصار باہر سے منگوائے گئے خام مال اور پرزہ جات پر ہے، جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھتے ہی گاڑیوں کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ حکومتی لائحہ عمل کے تحت مقامی سطح پر گاڑیوں کی مکمل تیاری کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو شراکت داری کی ترغیب دی جائے گی۔ حکومت نے واضح ہدف مقرر کیا ہے کہ اگلے پانچ سال کے اندر پاکستان کے آٹو سیکٹر کی مجموعی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔ اس قدم سے نہ صرف ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں لاکھوں نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ 2030 کا وژن: 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کی سڑکوں پر منتقلی عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیشِ نظر دنیا بھر کی خود کار صنعت الیکٹرک وسائل پر منتقل ہو رہی ہے۔ پاکستان نے بھی اس عالمی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی کا تعین کر لیا ہے۔ پالیسی کے مطابق حکومت کا پختہ ہدف ہے کہ سال 2030 تک پاکستان میں فروخت ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کا کم از کم 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں پر مشتمل ہو۔ اس اقدام سے جہاں شہری علاقوں میں سموگ اور فضائی آلودگی میں کمی واقع ہوگی، وہاں پٹرول اور ڈیژل کی مد میں ملک سے باہر جانے والا عربوں ڈالر کا قیمتی زرِ مبادلہ بھی بچایا جا سکے گا۔ پس منظر، چیلنجز اور مستقبل کا صحافتی جائزہ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران روپے کی قدر میں کمی، خام مال کی مہنگائی اور اعلیٰ ٹیکسوں کے باعث عام گاڑیاں بھی عام شہری کی استطاعت سے بالکل باہر ہو چکی تھیں۔ ایک معمولی گاڑی کی قیمت بھی عام آدمی کے پہنچ سے دور ہونے کے باعث آٹو سیکٹر شدید مندی کا شکار تھا اور کارخانے بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ ایسے حالات میں حکومت کی یہ نئی آٹو پالیسی بظاہر ایک خوش آئند اور مثبت قدم نظر آتی ہے۔ تاہم، صحافتی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس پالیسی کی کامیابی کا تمام تر انحصار چند بنیادی نکات پر ہوگا: اولاً، کیا عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) ہائبرڈ گاڑیوں اور الیکٹرک گاڑیوں پر دی جانے والی ٹیکس رعایتوں کی حتمی منظوری دے گا؟ ثانیاً، کیا ملک میں بجلی کے موجودہ بحران کے ہوتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک تیز رفتاری سے قائم کیا جا سکے گا؟ اگر حکومت ان چیلنجز پر قابو پانے اور پالیسی پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ عام شہریوں کا اپنی ذاتی گاڑی رکھنے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔ Post navigation ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر: فی کلو قیمت 600 روپے تک جا پہنچی، عوام دہائی دینے پر مجبور