اہم نکات:ادارے کی حیثیت: اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ 2025ء کی ترمیم کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) ایک آزاد ادارہ ہے، جو ایف آئی اے کا ماتحت شعبہ نہیں رہا۔اختیارات کی حد: این سی سی آئی اے کو ایف آئی اے ایکٹ 1974ء کے تحت حاصل تمام اختیارات خود بخود حاصل نہیں ہوتے؛ ادارہ صرف پیکا (PECA) 2016ء کے صریح اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔قانون کی خلاف ورزی: عدالت نے واضح کیا کہ محض رولز (ماتحت قانون سازی) کے ذریعے کسی شہری کے بینک اکاؤنٹس یا جائیداد منجمد کرنے کا اختیار نہیں بنایا جا سکتا، جب تک وہ بنیادی ایکٹ میں موجود نہ ہو۔کارروائی کا طریقہ: منی لانڈرنگ یا جرم سے حاصل شدہ رقم کی صورت میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کے مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سائبر کرائم انویسٹی گیشن سے متعلق ایک اہم اور دور رس نتائج کے حامل مقدمے میں انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سنگل بینچ کا سابقہ فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے تمام متعلقہ بینکوں اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اپیل کنندگان کے اکاؤنٹس فوری طور پر بحال (Unfreeze) کیے جائیں۔اس فیصلے سے ملک میں سائبر کرائم ایجنسیوں کے دائرہ اختیار، شہریوں کے بنیادی حقوق اور مالیاتی آزادی کی ضمانت کے حوالے سے اہم قانونی حدود کا تعین ہو گیا ہے۔مقدمے کا پس منظر اور 2025ء کی ترمیمپریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016ء (PECA) میں 2025ء کے دوران کی جانے والی ترمیم کے بعد این سی سی آئی اے کو ایک الگ اور خود مختار تحقیقاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سائبر کرائمز سے متعلق تمام تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کا سائبر کرائم ونگ سرانجام دیتا تھا۔نئے ادارے کے قیام کے بعد این سی سی آئی اے نے ایف آئی اے ایکٹ 1974ء اور این سی سی آئی اے فنکشنز رولز 2025ء کا سہارا لیتے ہوئے مختلف انکوائریوں کے دوران شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹس براہ راست منجمد کرنے کی کارروائی شروع کی۔ ان اقدامات کے خلاف متاثرہ شہریوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں سنگل بینچ نے ابتدائی طور پر ایجنسی کے اقدامات کو برقرار رکھا تھا، تاہم ڈویژن بینچ نے انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے بعد اس فیصلے کو معطل کر دیا۔عدالتی فیصلہ: بنیادی قانون بمقابلہ ماتحت قانون سازیعدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں اس قانونی نقطے کو تفصیل سے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی انتظامی ادارہ یا حکومت ماتحت قانون سازی (Substantive Rules) کے ذریعے ایسے اختیارات خود تخلیق نہیں کر سکتی جو پارلیمنٹ کے منظور کردہ بنیادی قانون (Parent Act) میں موجود نہ ہوں۔انٹرا کورٹ اپیل میں عدالت نے جن اہم قانونی نکات کو بنیاد بنایا، وہ درج ذیل ہیں:آزادانہ حیثیت: 2025ء کی ترمیم کے بعد این سی سی آئی اے، ایف آئی اے کا ذیلی شعبہ نہیں رہی۔ اس لیے ایف آئی اے ایکٹ 1974ء کی دفعہ 5(5) کے اختیارات ازخود اس ایجنسی کو منتقل نہیں ہوتے۔پیکا (PECA) 2016ء کی حدود: پیکا 2016ء کی دفعہ 29 کے تحت قائم کردہ یہ ادارہ صرف وہی اختیارات استعمال کرنے کا مجاز ہے جو اس ایکٹ میں صراحتاً درج ہیں۔رول 5 کی قانونی حیثیت: این سی سی آئی اے نے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے “این سی سی آئی اے فنکشنز رولز 2025ء” کے رول 5 پر انحصار کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ رول اپنے بنیادی ایکٹ تجاوز کرتا ہے، اس لیے اس کی بنیاد پر منجمد کیے گئے اکاؤنٹس کی کارروائی غیر قانونی ہے۔حقِ ملکیت، ذریعۂ معاش اور غیر متناسب کارروائیاںاسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق بالخصوص حقِ ملکیت (Property Rights) اور ذریعۂ معاش کے تحفظ پر شدید زور دیا۔عدالت نے نشان دہی کی کہ صرف ایک ابتدائی رپورٹ (Source Report) کی بنیاد پر کسی شخص یا اس کے پورے خاندان کے بینک اکاؤنٹس بغیر کسی مخصوص جرم اور ٹھوس شواہد کے منجمد کر دینا غیر متناسب (Disproportionate) اور غیر معقول اقدام ہے۔ عدالت کے مطابق اس قسم کے یکطرفہ اقدامات سے ایک عام شہری نہ صرف اپنے بنیادی مالیاتی حقوق سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ اس کا کاروبار اور روزمرہ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔منی لانڈرنگ اور قانون کا درست استعمالعدالت عالیہ نے اپنے حکم میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر این سی سی آئی اے کے پاس کسی بینک اکاؤنٹ سے متعلق یہ معلومات یا شواہد موجود ہوں کہ اس میں موجود رقم جرم سے حاصل شدہ (Proceeds of Crime) ہے یا منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے، تو ادارہ قانون سے بالا تر ہو کر براہ راست بینکوں کو خطوط جاری نہیں کر سکتا۔اس قسم کی صورت حال میں درج ذیل قانونی طریقہ کار اپنانا لازمی ہوگا:اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء: ادارے کو Anti-Money Laundering Act (AMLA) 2010 کے تحت مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا پڑے گا۔عدالتی منظوری: اکاؤنٹس منجمد یا ضبط کرنے کے لیے متعلقہ فورم یا عدالت سے قانونی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا تاکہ طریقہ کار کی شفافیت قائم رہے۔شفاف انکوائری: کارروائی محض فرض یا شک کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانونی شواہد کی روشنی میں ہونی چاہیے۔آئندہ کا لائحہ عمل اور ادارے کے لیے ہدایتعدالت نے اپیل کنندگان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو تمام منجمد کیے گئے بینک اکاؤنٹس اور بلاک شدہ اثاثے فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس فیصلے سے این سی سی آئی اے کی جانب سے کی جانے والی اصل انکوائری متاثر نہیں ہوگی۔ادارے کو آئین و قانون کے حدود کے اندر رہتے ہوئے متعلقہ کیسز کی انکوائری جاری رکھنے کی کامل آزادی حاصل ہوگی، بشرطیکہ وہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی پاسداری کرے۔فیصلے کے ممکنہ اثراتقانونی ماہرین کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف ہراساں کیے جانے والے شہریوں کو تحفظ ملے گا بلکہ تحقیقاتی اداروں کو بھی یہ پیغام ملا ہے کہ وہ انتظامی قواعد (Rules) کا سہارا لے کر پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کی حد سے تجاوز نہیں کر سکتے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationمردان: ویمن یونیورسٹی کی طالبات کی ڈسٹرکٹ پولیس میں 45 روزہ انٹرن شپ مکمل، ڈی پی او آفس میں پروقار تقسیمِ اسناد کی تقریب راولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش: نالہ لئی میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرِ آب اور پاک فوج طلب