Preloader
Fool proof security during milad

اہم نکات:

  • خیبر پختونخوا میں 12 ربیع الاول کے تمام جلوس اور مذہبی اجتماعات مکمل امن و امان اور روایتی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے۔
  • انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات پر پولیس افسران، جوانوں، علما، امن کمیٹیوں اور عوامی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔
  • صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت تمام اضلاع میں پولیس افسران نے سیکیورٹی پلان کی بذاتِ خود نگرانی کی، جس کی بدولت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
  • سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین بہترین رابطہ کاری نے پرامن فضا قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
  • عید میلاد النبی ﷺ

پشاور (خاص رپورٹ): خیبر پختونخوا بھر میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے یومِ ولادت باسعادت (12 ربیع الاول) کے موقع پر منعقد ہونے والی تمام مذہبی تقاریب، جلوس اور محافلِ میلاد پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہو گئی ہیں۔ صوبائی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ترتیب دیے گئے فول پروف سیکیورٹی پلان اور سخت حفاظتی تدابیر کی بدولت صوبے میں کسی بھی مقام پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

عید میلاد النبی ﷺ کے پرامن اختتام پر سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) پشاور سے جاری کردہ ایک اہم پریس ہینڈ آؤٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے صوبے بھر میں امن و امان قائم رکھنے، باہمی اخوت کو فروغ دینے اور سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کرنے پر تمام مکاتبِ فکر، بالخصوص علما کرام، تاجر برادری، امن کمیٹیوں اور عوام کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔

پولیس افسران کی خود نگرانی اور سیکیورٹی پلان

ربیع الاول کی مناسبت سے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، ملاکنڈ، ہزارہ، مردان، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان ڈویژنز میں خاص سیکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے۔ آئی جی پی ذوالفقار حمید کی ہدایات پر تمام ضلعی پولیس سربراہان (ڈی پی اوز) اور ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) نے اپنے اپنے علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات اور مرکزی جلوسوں کی بذاتِ خود نگرانی کی۔

شہروں کے حساس اور مرکزی علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مانٹیرنگ کی گئی جبکہ حساس مقامات پر بم ڈسپوزل اسکوڈ اور لیڈیز پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس افسران کی میدان میں موجودگی اور مستعدی کی وجہ سے عوام نے بغیر کسی خوف و خطر کے مذہبی تقاریب میں شرکت کی اور روایتی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔

عوامی تعاون، علماء اور تاجر برادری کا کردار

آئی جی پی خیبر پختونخوا نے اپنے خاص پیغام میں کہا کہ یہ کامیابی صرف سیکیورٹی اداروں کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ صوبے کے عوام، علما کرام اور تاجر برادری کے بے مثال تعاون کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ علما کرام نے اپنے جمعہ اور عید میلاد النبی ﷺ کے خطبات میں باہمی رواداری، محبت اور اخوت کا درس دیا اور عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کی۔

علاوہ ازیں، تاجر برادری اور مقامی امن کمیٹیوں نے جلوسوں کی راہگزر پر سبیلوں، نذر و نیاز اور استقبالیہ کیمپوں کے انعقاد کے دوران پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے (ایس او پیز) پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا، جس سے امن و امان برقرار رکھنے میں زبردست مدد ملی۔

خیبر پختونخوا پولیس کا جذبہِ خدمت اور قربانیاں

آئی جی پی ذوالفقار حمید نے خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں اور افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فرض شناسی اور دن رات کی محنت کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے ہمیشہ چیلنجنگ حالات اور سیکیورٹی خطرات کے باوجود عوام کے جان و مال کی حفاظت کو اولیت دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا:

“خیبر پختونخوا پولیس نے جس جرات، بہادری اور عظیم قربانیوں کی بدولت اس خطے میں امن کی شمع کو روشن رکھا ہے، وہ ہمارے لیے فخر کا باعث ہے۔ ہماری پولیس فورس آئندہ بھی اسی جذبے، دلیری اور فرض شناسی کے ساتھ صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے گی۔”

میڈیا کا مثبت اور باہم ذمہ دارانہ کردار

پولیس سربراہ نے اپنے بیان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف درست اور بروقت معلومات عوام تک پہنچائیں بلکہ سیکیورٹی روٹس اور ٹریفک پلان سے متعلق پولیس کی ہدایات کی تشہیر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ میڈیا کی جانب سے اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی اور امن کے پیغام کی اشاعت نے مجموعی ماحول کو خوشگوار بنانے میں بڑی معاونت کی۔

موجودہ سیکیورٹی پس منظر اور خطے کے اثرات

خیبر پختونخوا گزشتہ چند دہائیوں سے سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فرنٹ لائن پر رہا ہے۔ ایسے خطے میں جہاں وقتاً فوقتاً مختلف نوعیت کے سیکیورٹی خدشات سامنے آتے رہتے ہیں، 12 ربیع الاول جیسے عظیم الشان اور بڑے عوامی و مذہبی اجتماعات کو بالخصوص پرامن طریقے سے منعقد کروانا ایک بڑا معرکہ تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرینِ امورِ سیکیورٹی کے مطابق، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان یہ اعتماد اور رابطہ کاری نہ صرف امن و امان کی پائیداری کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے صوبے میں معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملتی ہے۔ پولیس اور سول سوسائٹی کا یہ مشترکہ تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور ادارے تمام تر درپیش چیلنجز کا مقابلہ یکجہتی اور یکسوئی کے ساتھ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025