اہم نکات:نئے نظام کی شروعات: نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے M-1، M-14 اور M-15 پرجدید اسپیڈ مانیٹرنگ سسٹم فعال کر دیا ہے۔دوہرا طریقہ کار: نیا نظام گاڑی کی ریئل ٹائم رفتار کے ساتھ ساتھ دو چیک پوائنٹس کے درمیان اوسط رفتار کو بھی جانچتا ہے۔روایتی طریقوں کا خاتمہ: محض کیمرے کے سامنے رفتار کم کرنے والے ڈرائیورز اب چالانوں سے نہیں بچ سکیں گے۔ایم ٹیگ سے انسلاک: مستقبل میں تیز رفتاری کے چالان براہ راست ایم ٹیگ (M-Tag) سسٹم سے جوڑے جائیں گے۔اسلام آباد / پشاور (ویب ڈیسک / صحافتی رپورٹ)پاکستان کی اہم ترین موٹرویز اور شاہراہوں پر سفر کرنے والے ڈرائیوروں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) نے ٹریفک کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے، حادثات میں کمی لانے اور تیز رفتاری کی روک تھام کے لیے ایک جدید اور خودکار “پوائنٹ ٹو پوائنٹ” (P2P) اسپیڈ چیکنگ سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ابتدائی مرحلے میں اس جدید ٹیکنالوجی کو پشاور–اسلام آباد موٹروے (M-1)، حکلہ–ڈی آئی خان موٹروے (M-14) اور ہزارہ موٹروے (M-15) پر فعال کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے موٹرویز پر غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور رفتار کی حد سے تجاوز کرنے کے رجحان پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکے گا۔جدید اسپیڈ مانیٹرنگ سسٹم کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟ماضی میں موٹرویز پر زیادہ تر فکسڈ یا موبائل اسپیڈ گنز اور کیمرے استعمال کیے جاتے تھے۔ روزانہ سفر کرنے والے مسافر، بالخصوص ترقی یافتہ شاہراہوں اور نجی و تجارتی بسوں کے ڈرائیورز ان کیمروں کے مقامات سے اچھی طرح واقف ہو چکے تھے۔ ڈرائیورز دور سے کیمرہ دیکھتے ہی رفتار کم کر لیتے اور کیمرہ کراس کرتے ہی دوبارہ گاڑی تیز کر دیتے تھے۔نیا “پوائنٹ ٹو پوائنٹ” سسٹم اس روایتی خامی کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ سسٹم دو مختلف طریقوں سے بیک وقت کام کرتا ہے:ریئل ٹائم اسپیڈ چیکنگ: جیسے ہی کوئی گاڑی کیمرے کے نیچے سے گزرتی ہے، اس کے جدید سینسرز اور کیمرے فوری طور پر اس لمحے کی رفتار ریکارڈ کر لیتے ہیں۔اوسط رفتار (Average Speed) کی جانچ: موٹروے کے مختلف حصوں پر ہر چند کلومیٹر کے بعد چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ سسٹم پہلے چیک پوائنٹ (Check Point 1) سے دوسرے چیک پوائنٹ (Check Point 2) تک کے طے شدہ فاصلے اور گاڑی کے وہاں پہنچنے کے وقت کا اندراج کرتا ہے۔اوسط رفتار کا ریاضیاتی فارمولا: اگر دو چیک پوائنٹس کے درمیان فاصلہ 30 کلومیٹر ہے اور موٹروے پر گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 120 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے، تو قانونی طور پر اس فاصلے کو طے کرنے میں کم از کم 15 منٹ لگنے چاہئیں۔ اگر کوئی گاڑی 15 منٹ سے پہلے دوسرے چیک پوائنٹ پر پہنچ جاتی ہے، تو سسٹم خودکار طور پر یہ نتیجہ اخذ کر لے گا کہ ڈرائیور نے راستے میں رفتار کی حد سے تجاوز کیا ہے، چاہے اس نے کیمرے کے قریب پہنچ کر رفتار کم ہی کیوں نہ کر لی ہو۔متاثرہ روٹس اور ان کی اہمیتاس نئے نظام کے لیے جن شاہراہوں کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ ملک کے اہم ترین تجارتی اور سیاحتی روٹس میں شمار ہوتی ہیں:پشاور–اسلام آباد موٹروے (M-1): خیبر پختونخوا کو وفاقی دارالحکومت سے ملانے والی یہ ایک انتہائی اہم شاہراہ ہے جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں گزرتی ہیں۔حکلہ–ڈی آئی خان موٹروے (M-14): چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے مغربی روٹ کا اہم حصہ، جہاں مال بردار اور تیز رفتار ٹریفک کی نقل و حرکت زیادہ ہے۔ہزارہ موٹروے (M-15): شمالی علاقہ جات کی طرف جانے والے سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے مرکزی شاہراہ، جہاں پہاڑی خطہ ہونے کی وجہ سے محفوظ ڈرائیونگ انتہائی ضروری ہے۔ایم ٹیگ (M-Tag) سے انسلاک اور جدید خودکار چالانموٹروے حکام کے مطابق موجودہ مرحلے کے بعد اس سسٹم کو مزید جدید بنانے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ انٹیگریٹڈ ٹیکنالوجی پلان کے تحت جلد ہی اس اسپیڈ مانیٹرنگ سسٹم کو ‘ایم ٹیگ’ (M-Tag) پورٹل سے مکمل طور پر منسلک کر دیا جائے گا۔اس نظام کے نافذ ہونے کے بعد:تیز رفتاری کی خلاف ورزی کرنے پر الگ سے گاڑی روک کر چالان دینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔چالان کی رقم خودکار طریقے سے گاڑی کے ایم ٹیگ اکاؤنٹ سے وضع (Deduct) ہو جائے گی یا ایم ٹیگ پر واجب الادا رقم کے طور پر درج ہو جائے گی۔گاڑی کے مالک کو فوری طور پر ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعے چالان، خلاف ورزی کی جگہ، وقت اور رفتار کی تفصیلات موصول ہو جائیں گی۔روڈ سیفٹی اور ٹریفک کنٹرول کے پس منظر میں اہم اقدامبین الاقوامی سطح پر پوائنٹ ٹو پوائنٹ اسپیڈ چیکنگ سسٹم یورپ، آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان میں موٹروے پولیس کی جانب سے اس قدم کو روڈ سیفٹی کے لیے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔موٹروے حکام کے مطابق شاہراہوں پر ہونے والے خوفناک حادثات کی سب سے بڑی وجہ تیز رفتاری اور غیر متوازن ڈرائیونگ ہے۔ محض کیمروں کے سامنے رفتار کم کر لینے سے حادثات کا خطرہ ختم نہیں ہوتا تھا کیونکہ ڈرائیورز باقی راستے پر انتہائی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس نئے قدم کا مقصد ڈرائیوروں میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ وہ پورے سفر کے دوران ایک متعین رفتار پر قائم رہیں۔ڈرائیورز اور مسافروں کے لیے اہم ہدایاتموٹروے پولیس نے تمام شہریوں اور ڈرائیور برادری کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے دوران درج ذیل امور کی سخت پابندی کریں:حدِ رفتار کی پابندی: اپنے سفر کے دوران موٹروے کے ہر حصے پر لکھی ہوئی معلوماتی سائن بورڈز کے مطابق اسپیڈ لمٹ پر عمل کریں۔لین ڈسپلن (Lane Discipline): ہمیشہ اپنی متعین لین میں ڈرائیو کریں اور اوور ٹیکنگ صرف دائیں طرف کی لین سے، اشارہ دے کر کریں۔محفوظ فاصلہ (Safe Distance): آگے چلنے والی گاڑی سے اپنی گاڑی کا درمیانی فاصلہ برقرار رکھیں تاکہ ناگہانی صورتحال میں بریک لگانے کا موقع مل سکے۔گاڑی کا ایم ٹیگ ریچارج رکھیں: تاکہ مستقبل میں خودکار چالان یا ٹول پلازہ پر تاخیر جیسی مشکلات سے بچا جا سکے۔تجزیہ اور ممکنہ اثراتاس نفاذ سے شاہراہوں پر مسلسل تیز رفتاری کی عادت میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔ جہاں ایک طرف یہ سسٹم حادثات کی شرح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری طرف اس سے ڈرائیوروں میں ٹریفک قوانین کے احترام کا ایک نیا شعور بیدار ہوگا۔ شہریوں اور ٹرانسپورٹ یونینز نے بھی اس جدید تکنیکی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی بھی امید ظاہر کی ہے کہ اس سے عوام کو کسی بلاوجہ تکنیکی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور سسٹم کی شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationہمالیائی سرحدی خطے میں تباہ کن فلیش فلڈ: نیپال اور تبت کے بارڈر پر 55 افراد ہلاک، 400 سے زائد لاپتا، کٹھمنڈو کے شمالی اضلاع شدید متاثر عید میلاد النبی ﷺ: خیبر پختونخوا میں فول پروف سیکیورٹی اور عوامی تعاون سے تمام تقاریب پرامن طور پر اختتام پذیر، آئی جی پی کی مبارکباد