Preloader
JI organized protest at jacobabad
  • مظاہرے کا انعقاد: جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام جیکب آباد پریس کلب کے سامنے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔
  • بنیادی مطالبہ: اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے اور فوری طور پر جنگ بندی کروانے کا اپیل۔
  • عالمی برادری پر تنقید: مظاہرین کا کہنا تھا کہ حقوقِ انسانی کے بین الاقوامی اداروں کی خاموشی دہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔
  • عوام سے اپیل: انسانیت دوست دنیا اور امتِ مسلمہ سے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب۔

جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) فلسطین کے علاقے غزہ میں مسلسل جاری اسرائیلی مظالم، بمباری اور انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی لہر کے سلسلے میں جیکب آباد میں بھی جماعت اسلامی کی جانب سے ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ پریس کلب کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں شہریوں، جماعت اسلامی کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل مخالف اور فلسطین کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بین الاقوامی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں جاری غیر انسانی کارروائیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور مظلوم فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھایا جائے۔

مظاہرے کے تفصیلات اور قائدین کا خطاب

احتجاجی مظاہرے سے جماعت اسلامی کے مقامی قائدین اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس وقت دنیا کا سب سے بڑا غاصب اور دہشت گرد ملک بن چکا ہے۔ غزہ میں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کا بلا دریغ خون بہایا جا رہا ہے۔ قائدین کا کہنا تھا کہ جیکب آباد کے عوام اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ہر فورم پر ان کی آواز بن کر اٹھتے رہیں گے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسلسل عالمی قوانین اور جینوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے، لیکن عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ عالمی اداروں کی یہ خاموشی انہیں ظالم کے ساتھ برابر کا شریک جرم بناتی ہے۔

غزہ کی موجودہ صورتحال اور انسانی بحران کا پس منظر

غزہ میں جاری حالیہ کشیدگی اور تباہ کاری محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ بیسویں اور اکیسویں صدی کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے جاری اس تنازع نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے:

  • انسانی جانوں کا ضیاع: ہزاروں معصوم شہریوں، خاص طور پر بچوں اور خواتین کو بلا امتیازی بمباری میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
  • بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی: ہسپتالوں، سکولوں، پناہ گزین کیمپوں اور پانی و بجلی کے نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
  • کھانے پینے کی اشیاء کی قلت: غذا، ادویات اور ایندھن کی شدید ہنگامی قلت نے غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔
  • منتقل شدگان کی تعداد: لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے محروم ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں بے سر و سامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان حالات نے دنیا بھر کے امن پسند شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے اور جیکب آباد کا یہ احتجاج اسی عالمی احتجاجی لہر کا ایک اہم حصہ ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کا کردار

جیکب آباد کے پریس کلب پر جمع مظاہرین نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں جیسے اقوامِ متحدہ، اینمسٹی انٹرنیشنل اور عالمی عدالتِ انصاف کے نقشِ قدم اور سست روی پر شدید تنقید کی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب بات دنیا کے دیگر خطوں میں حقوق کی پامالی کی آتی ہے تو مغربی ممالک اور بین الاقوامی ادارے فوری متحرک ہو جاتے ہیں، لیکن جب فلسطینیوں کے حقوق کا معاملہ سامنے آتا ہے تو انہی اداروں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قوانین اب صرف کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں اور اگر ان پر فوری عمل درآمد نہ کرایا گیا تو دنیا کا امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی جائیں۔

مسلم ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سے مطالبات

مظاہرے کے دوران مسلم حکمرانوں کے سرد رویے پر بھی دکھ اور غصے کا اظہار کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے او آئی سی (OIC) اور تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ الفاظ کی حد تک نکتہ چینی کرنے کے بجائے عملی اقدامات کریں۔

  1. مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی: تمام اسلامی ممالک فوری طور پر متحد ہو کر اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھائیں۔
  2. انسانی امداد کی فراہمی: غزہ کی ناکہ بندی ختم کروا کر فوری اور بلا تعطل امدادی سامان، ادویات اور خوراک پہنچانے کے راستے کھولے جائیں۔
  3. سفارتی تعلقات کی معطلی: جو مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات رکھتے ہیں، وہ ان کا فوری خاتمہ کریں۔

عوامی بائیکاٹ اور آیندہ کے لائحہ عمل کی اپیل

مظاہرے کے اختتام پر رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے طور پر بھی فلسطینی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کی پیدا کردہ مصنوعات کا بائیکاٹ ایک ایسا مؤثر طریقہ ہے جس کے ذریعے معاشی طور پر ظالم کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔

جیکب آباد میں ہونے والے اس پرامن مظاہرے نے ثابت کیا کہ پاکستان کا ہر شہری، قطع نظر اس کے کہ وہ کس خطے یا شہر سے تعلق رکھتا ہے، فلسطین کے دیرینہ قضیے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر بیدار اور بضد ہے۔ مظاہرین نے عزم کا اظہار کیا کہ اگر اسرائیل نے اپنی جارحانہ پالیسیاں ختم نہ کیں تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا اور ہر شہر اور قصبے سے اس کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔