Preloader
Trump's AI rebrand causes 'unprecedented' demand

اہم نکات:

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو “سُپر انٹیلی جنس” (SI) کا نام دینے کی تجویز نے دنیا بھر کی انٹرنیٹ انڈسٹری کو متاثر کیا ہے۔
  • سلووینیا کے سرکاری قومی ڈومین رجسٹرار نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے انٹرنیٹ کوڈ .si کے تحت ویب سائٹ ڈومینز کی رجسٹریشن میں ریکارڈ اور بے مثال اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
  • دنیا بھر کی ٹیک کمپنیوں اور ڈومین خریداروں میں .si والے ویب ایڈریس خریدنے کی دوڑ لگ گئی ہے تاکہ مستقبل میں ‘سُپر انٹیلی جنس’ کے برانڈز کو محفوظ کیا جا سکے۔
  • ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کی اصطلاحات میں تبدیلی کے یہ غیر متوقع معاشی اور ڈیجیٹل اثرات عالمی سطح پر انٹرنیٹ گورننس کے نئے چیلنجز کو جنم دے رہے ہیں۔

خبر کا پس منظر: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ اور اصطلاح کی تبدیلی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence یا AI) کا لفظ پچھلے چند برسوں سے ہر زبان پر عام ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں سیاسی اور ٹیکنالوجیکل ایوانوں میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ موقف اختیار کیا کہ اب AI کو محض مصنوعی ذہانت کہنے کے بجائے “سُپر انٹیلی جنس” (Super Intelligence) یا مختصر طور پر SI کہا جانا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ موجودہ الگورتھمز اور کمپیوٹنگ طاقت اب محض انسانی صلاحیتوں کی نقل یا مصنوعی ذہانت تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ انسانی ذہن سے کئی گنا آگے بڑھ کر ’سُپر انٹیلی جنس‘ کی سطح کو چھو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اور بالخصوص امریکہ میں اس نئی اصطلاح کو عام کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ سیاست دانوں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان اس نام کی تبدیلی اور اس کے فلسفیانہ اثرات پر بحث جاری تھی، لیکن کسی کے سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس ایک سیاسی تجویز کا سب سے پہلا اور عجیب و غریب اثر یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سلووینیا پر پڑے گا۔

سلووینیا کا ڈومین رجسٹریشن بحران: غیر معمولی اضافہ

سلووینیا، جو کہ وسطی یورپ کا ایک خوبصورت اور پُرامن ملک ہے، انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنے قومی کنٹری کوڈ ٹاپ لیول ڈومین (ccTLD) .si سے جانا جاتا ہے۔ عالمی نظامِ انٹرنیٹ کے تحت دنیا کے ہر ملک کو دو حرفی کوڈ دیا جاتا ہے، جیسے پاکستان کے لیے .pk اور برطانیہ کے لیے .uk مختص ہے۔ سلووینیا کے لیے یہ کوڈ .si ہے۔

سلووینیا کی سرکاری ڈومین ہوسٹنگ اور رجسٹریشن اتھارٹی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان اور ‘SI’ کی اصطلاح کے استعمال کے فوراً بعد ملک میں ویب ڈومینز کی رجسٹریشن میں ایک “غیر معمولی اور تاریخی” اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سلووینیا کے قومی رجسٹرار کے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں عام طور پر سالانہ یا ماہانہ بنیادوں پر ڈومینز کی رجسٹریشن ایک متعین اور سست رفتار سے ہوا کرتی تھی، لیکن اچانک دنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں ایسی درخواستیں موصول ہونا شروع ہو گئیں جن کے آخر میں .si آتا تھا۔

بین الاقوامی ڈومین بائرز کی دوڑ اور ‘ڈومین اسکوئٹنگ’

اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی سائبر دنیا کے وہ سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیں جو مستقبل کی مارکیٹ پر نظر رکھتی ہیں۔ جب صدر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے لیے SI کا اختصار تجویز کیا، تو سائبر دنیا کے ‘ڈومین ہاڈرز’ (Domain Hoarders) اور برانڈنگ کمپنیوں کو اندازہ ہوا کہ مستقبل میں تمام AI کمپنیاں اپنے نام کے ساتھ .si کا ڈومین استعمال کرنا چاہیں گی۔

مثال کے طور پر، جیسے ماضی میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں نے اینگوئلا (Anguilla) کے قومی ڈومین .ai کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس جزیرے کی معیشت کا بڑا حصہ اسی سے چلنے لگا، بالکل اسی طرح اب سلووینیا کا .si ڈومین عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور انفرادی خریداروں نے ایسے تمام ممکنہ ناموں کو پہلے سے خریدنا (Reserve کرنا) شروع کر دیا ہے جو مستقبل میں سُپر انٹیلی جنس کی خدمات، سافٹ ویئرز یا پراڈکٹس کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

سلووینیا کی ڈیجیٹل معیشت پر اثرات اور اعداد و شمار

سلووینیا کی نیشنل ڈومین اتھارٹی اور ڈیجیٹل ماہرین کے مطابق، اس صورتحال کے معاشی اور انتظامی اثرات انتہائی حیران کن ہیں:

  • رجسٹریشنز میں ریکارڈ اضافہ: گزشتہ چند ہفتوں کے دوران .si ڈومینز کی رجسٹریشن کی شرح میں معمول سے 300 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
  • غیر ملکی خریداروں کا غلبہ: رجسٹرار کے ڈیٹا کے مطابق نویں فیصد (90%) سے زائد نئی درخواستیں سلووینیا سے باہر کے ممالک، بالخصوص امریکہ، چین اور مغربی یورپ سے موصول ہو رہی ہیں۔
  • قیمتی الفاظ کی خرید: سُپر انٹیلی جنس، روبوٹکس، ہیلتھ کیئر اور فنانس سے جڑے کلیدی الفاظ (Keywords) والے تمام ڈومینز سیکنڈوں میں فروخت ہو چکے ہیں۔

سلووینیا کے رجسٹرار کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس پیش رفت سے قومی خزانے اور مقامی سائبر انڈسٹری کو فیسوں کی مد میں معقول مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی انفراسٹرکچر پر بوجھ بھی بڑھ گیا ہے جس کے لیے سرورز کی گنجائش میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔

سائبر گورننس، برانڈنگ اور قانونی پیچیدگیاں

سائبر قوانین کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی عالمی رہنما کی ایک تجویز سے کسی ملک کے قومی انٹرنیٹ کوڈ کا اس حد تک متاثر ہونا ایک نایاب واقعہ ہے۔ اس صورتحال نے کئی اہم قانونی اور انتظامی سوالات کو جنم دیا ہے:

  1. مقامی کاروبار کا تحفظ: سلووینیا کے مقامی شہریوں اور کاروباری اداروں کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ اگر تمام اچھے اور عام فہم ڈومینز غیر ملکی سرمایہ کار خرید لیں گے، تو خود سلووینیا کے اپنے اداروں کو اپنی ویب سائٹس کے لیے مناسب نام نہیں ملیں گے۔
  2. کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک کے تنازعات: بہت سے خریداروں نے ایسی کمپنیوں کے ناموں پر بھی .si ڈومین خریدی ہیں جو پہلے سے AI کے میدان میں کام کر رہی ہیں۔ اس سے آنے والے دنوں میں بین الاقوامی عدالتوں میں برانڈ ملکیت کے تنازعات بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
  3. جعلسازی اور سائبر سیکیورٹی خطرات: اچانک ہزاروں نئے ڈومینز کے بننے سے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہیکرز اور phishing حملے کرنے والے گروہ ‘سُپر انٹیلی جنس’ کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان ویب سائٹس کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ: کیا ‘SI’ واقعی ‘AI’ کی جگہ لے سکے گا؟

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز نے سلووینیا کے ویب ڈومینز کی دنیا میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے، لیکن ٹیکنالوجی اور صحافت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ واقعی عالمی سطح پر ‘AI’ کو ‘SI’ میں تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

مصنوعی ذہانت صرف ایک لفظ نہیں بلکہ پچھلے کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحریق کا نام ہے۔ عالمی سائنسی برادری، تعلیمی ادارے اور بڑی ٹیک کمپنیاں (جیسے گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی) اصطلاحات کی تبدیلی میں جلد بازی سے کام نہیں لیتیں۔ تاہم، مارکیٹنگ اور برانڈنگ کی حد تک ’ایس آئی‘ کی اصطلاح نے اپنی جگہ بنانا شروع کر دی ہے۔

سلووینیا کی حکومت اور قومی ڈیجیٹل اتھارٹی اس وقت صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بین الاقوامی خریداروں کے اس ہجوم کے باوجود مقامی ڈیجیٹل حقوق اور انٹرنیٹ سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔

ختمی طور پر، یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سیاست دانوں کا ایک بیان یا ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی ایک معمولی سی تبدیلی کس طرح راتوں رات دنیا کے کسی دوسرے کونے میں موجود ملک کی ڈیجیٹل اور معاشی حقیقتوں کو یکسر بدل سکتی ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔