Preloader
Wave of terrorism in Khyber Pakhtunkhwa raises serious questions

اہم نکات (خلاصہ)

  • دہشت گردی میں تشویشناک اضافہ: خیبر پختونخوا کے سرحدی و بندوبستی اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران شدت پسندی اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
  • غیر قانونی مواصلاتی نیٹ ورک کا استعمال: افغان بارڈر سے متصل علاقوں میں غیر قانونی ٹیلی کام اسپیکٹرم، غیر تصدیق شدہ سمز اور بارڈر پار مواصلاتی ذرائع کے استعمال نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
  • جرائم اور دہشت گردی کا ملغوبہ: بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور اسمگلنگ جیسے نان اسٹیٹ جرائم کے ذریعے حاصل ہونے والے مالی وسائل دہشت گردی کے بنیادی فنڈنگ سورس کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
  • نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی کا تاثر: صوبائی گورننس کی خامیاں، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کا عدم تحرک اور نیشنل ایکشن پلان (NAP) کی سفارشات پر کامل عملدرآمد کی عدم موجودگی بحران کو گہرا کر رہی ہے۔

پشاور (خصوصی تجزیا تی رپورٹ): پاکستان کے سرحدی صوبے خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشت گردی کی نئ لہر اور سیکیورٹی فورسز و عام شہریوں پر مسلسل حملوں نے صوبائی انتظامیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیکورٹی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق صوبے میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال محض ایک بیرونی لہر نہیں بلکہ اس کے پیچھے غیر قانونی مواصلاتی ذرائع (Illegal Spectrum)، منظم جرائم اور دہشت گرد نیٹ ورکس کا گٹھ جوڑ (Crime-Terror Nexus) شامل ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) پر صوبائی سطح پر موثر عملدرآمد کی عدم موجودگی اس آگ کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

صوبے کے کئی اضلاع، خاص طور پر شمالی و جنوبی وزیرستان، خیبر، باجوڑ، اور بنوں میں تشدد کے واقعات نے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی، معاشی سرگرمیوں اور حکومتی رٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔

غیر قانونی اسپیکٹرم اور مواصلاتی نیٹ ورک کا چیلنج

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سب سے بڑا خطرہ ان کا مواصلاتی نظام ثابت ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں غیر قانونی مواصلاتی نیٹ ورکس اور ٹیلی کام اسپیکٹرم کی بلا تعطل دستیابی نے شدت پسندوں کو آپس میں رابطوں اور منصوبے بندی کی کھلی छूट دے رکھی ہے۔

سیکیورٹی رپورٹوں کے مطابق دہشت گرد درج ذیل مواصلاتی ذرائع کا استعمال کر رہے ہیں:

  • غیر تصدیق شدہ اور جعلی سمز: افغان سرحدی پٹی پر افغان ٹیلی کام کمپنیوں کی سمز اور رومنگ سہولیات جن پر پاکستانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔
  • افغان ٹیلی کام سگنلز کا نفوذ: سرحد پار سے آنے والے سگنلز جن کا احاطہ پاکستان کے اندرونی اضلاع تک ہوتا ہے، جنہیں نان اسٹیٹ ایکٹرز خفیہ پیغامات اور دھماکہ خیز مواد کو متحرک کرنے (RCIED) کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
  • سیٹلائٹ اور انکرپٹڈ مواصلات: جدید اینکرپٹڈ ایپلیکیشنز اور سیٹلائٹ فونز جن کے ذریعے بارڈر پار بیٹھے ماسٹر مائنڈز مقامی سہولت کاروں کو ہدایات جاری کرتے ہیں۔

قومی و صوبائی اداروں کی جانب سے سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کی بارہا مہمات کے باوجود پاک افغان سرحدی علاقوں میں اس غیر قانونی اسپیکٹرم کا مکمل خاتمہ نہ ہونا صوبائی گورننس اور ریگولیٹری اداروں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

جرائم اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ (Crime-Terror Nexus)

خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اب محض نظریاتی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک کثیر المفعولی اور نفع بخش جرم کے کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جسے بین الاقوامی صحافت اور دفاعی اصطلاح میں “کرائم اور ٹیرر کا گٹھ جوڑ” کہا جاتا ہے۔

اس گٹھ جوڑ کا طریقہ کار اور اس کے اندرونی مالیاتی ذرائع درجہ ذیل ہیں:

+-------------------------------------------------------------------------+
| دہشت گردی اور جرائم کا مالیاتی سائیکل |
+-------------------------------------------------------------------------+
| 1. بھتہ خوری : تاجروں، سرکاری ٹھیکیداروں اور سیاسی رہنماؤں کو |
| دھمکی آمیز کالز اور بھتے کی وصولی |
| 2. اغوا برائے تاوان: صنعتکاروں اور امرا کا اختطاف |
| 3. نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور اسلحے کی اسمگلنگ |
| 4. منشیات (آئس/ہیروئن) کی سرحد پار تجارت اور بلیک مارکیٹ سے فنڈنگ |
+-------------------------------------------------------------------------+

ان غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل ہونے والا اربوں روپوں کا سرمایہ شدت پسندوں کی تنخواہوں، اسلحے کی خریداری، اور خودکش حملہ آوروں یا سہولت کاروں کو فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ صوبائی پولیس اور سی ٹی ڈی کی جانب سے بھتہ خوری کے اس منظم نیٹ ورک پر قابو نہ پانا عام شہریوں کی غیر یقینی صورتحال میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان اور صوبائی حکومت کی گورننس پر سوالات

2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے دلخراش واقعے کے بعد پورے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان (NAP) کی منظوری دی تھی۔ اس پلان کا بنیادی مقصد ملک سے دہشت گردی، شدت پسندی، نان اسٹیٹ ایکٹرز کی فنڈنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا تھا۔

تاہم، خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور صوبائی انتظامیہ کے رویے پر تجزیہ کار شدید تنقید کر رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے اہم نکات اور ان کے ناقص عملدرآمد کا خاکہ درج ذیل ہے:

  • کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی تقویت: نیشنل ایکشن پلان کے تحت سی ٹی ڈی کو جدید ترین ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور خودمختاری سے آراستہ کرنا تھا، لیکن صوبائی سطح پر فنڈز کی غیر متوازن تخصیص اور ترجیحات کی تبدیلی سے سی ٹی ڈی کی صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں۔
  • نفرت انگیز تقاریر اور شدت پسند مواد پر پابندی: سوشل میڈیا پر عسکریت پسندوں کے بیانیے کی ترویج پر قابو پانے میں صوبائی انٹیلی جنس ڈھانچہ ناکام نظر آتا ہے۔
  • افغان مہاجرین کا اندراج و واپسی: غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی بے قاعدہ نقل و حرکت نے دہشت گردوں کو رہائش اور پناہ گاہیں تلاش کرنے میں مدد دی ہے۔
  • فاٹا کے انضمام کے بعد اصلاحات میں تاخیر: سابقہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد پولیسنگ کا نظام، عدالتی ڈھانچہ اور ترقیاتی فنڈز کی شفاف فراہمی ابھی تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی، جس سے پیدا ہونے والے خلا کو عسکریت پسند پُر کر رہے ہیں۔

مقامی آبادی کے خدشات اور معاشی بحران

دہشت گردی کی اس لہر کے براہ راست اثرات خیبر پختونخوا کی مقامی آبادی اور معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ قبائلی اور بندوبستی اضلاع میں تاجر برادری مسلسل خوف کی فضا میں سانس لے رہی ہے۔ بھتہ خوری کی کالز اور عدم تحفظ کی وجہ سے متعدد سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات پشاور، مردان اور سوات جیسے اضلاع سے اپنے کاروبار اسلام آباد یا دیگر محفوظ صوبوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

عوام کا ماننا ہے کہ سیاسی چپقلش اور مرکز و صوبے کے درمیان بداعتمادی کا سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ مقامی امن کمیٹیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے بالاتر ہو کر امن و امان کے قیام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو پہلی ترجیح بنانا ہو گا۔

صحافتی و ایڈیٹوریل تجزیہ: آگے کا راستہ کیا ہے؟

اگرچہ دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ ایک قومی خطرہ ہے، تاہم خیبر پختونخوا کی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ امن و امان کی بحالی، پولیس کی استعداد کار میں اضافہ اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا صوبائی حکومت کا بنیادی فریضہ ہے۔

اس بحران پر قابو پانے کے لیے درج ذیل فوری اقدامات ناگزیر ہیں:

  1. ٹیکنالوجی پر مبنی کارروائی: پاک افغان بارڈر پر غیر قانونی ٹیلی کام سگنلز اور غیر تصدیق شدہ سمز کی روک تھام کے لیے پی ٹی اے اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائی۔
  2. مالیاتی ناکہ بندی (Financial Squeeze): بھتہ خوری، نان کسٹم گاڑیاں، اور منشیات کی تجارت کے خلاف صوبائی سطح پر ہنگامی آپریشن۔
  3. وفاق اور صوبے کا اشتراک: وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں کے درمیان قومی سلامتی پر بلامعطل اور سیاست سے پاک سیکیورٹی ڈائیلاگ۔
  4. نیشنل ایکشن پلان کا ری وزٹ: نیپ (NAP) پر صوبائی اسمبلی کے ایوان کے اندر کڑی نگرانی اور اس کے تمام نکات پر بحرفِ انس عملدرآمد۔

اگر اب بھی صوبائی حکمرانوں نے اپنی ترجیحات کو تبدیل نہ کیا اور غیر قانونی اسپیکٹرم اور کرائم ٹیرر نیٹ ورکس کے خلاف سخت فیصلے نہ کیے تو خیبر پختونخوا کا بحران مزید گھمبیر روپ دھار سکتا ہے، جس کے اثرات صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کے پائیدار امن کو متاثر کریں گے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔