وی پی اینز کمپینز یوزرز کا ڈیٹا کسی کو بھی بیچ سکتے ہیں،ماہرینThank you for reading this post, don't forget to subscribe!پاکستان میں سوشل میڈیا ایپلیکیشنز کی بندش کی وجہ سے لوگ مختلف وی پی اینز کے ذریعے ان ایپس تک رسائی کی کوشش میں رہتے ہیں اور ان میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جن کا روزگار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس سے منسلک ہے۔آن لائن مارکیٹنگ اور کاروبار کا رجحان تو بڑھ رہا ہے لیکن دوسری جانب پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش، انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور سوشل میڈیا ایپس کی بندش سے ملک میں لاکھوں لوگوں کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں فائیور کی جانب سے پاکستان کے فری لانسرز کے اکاؤنٹس کو وقتی طور پر محدود کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں اور اس کی وجہ فائیور کی جانب سے یہ بتائی گئی کہ یوزر کی لوکیشن مسلسل تبدیل ہورہی ہے اس لیے سیکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے عارضی طور پر گگ کو محدود کیا جا رہا ہے۔واضح رہے آئی ٹی ایکسپرٹس کے مطابق جب جب آپ ان پیڈ وی پی این کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے لوکیشن چینج ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ فائیور کی جانب سے پروفائلز کو محدود کیا جا رہا ہے۔ لیکن جو نوٹفیکیشن سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے وہ پرانا ہے۔ٓان پیڈ وی پی اینز کن مسائل کا باعث بن سکتے ہیں؟ماہرین کے مطابق سارے ان پیڈ وی پی اینز غیر معیاری نہیں ہوتے اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو بہت معیاری سروسز فراہم کرتے ہیں جیسے کہ پروٹون، بٹ ڈیفنڈر، ٹنل بیئر اور بوٹ وغیرہ۔ تاہم کچھ وی پی اینز فری سروس تو دیتے ہیں مگر موبائل اور کمپیوٹر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے ڈیٹا چرا لیتے ہیں یا پھر کلک بیٹنگ میں ملوث ہوتے ہیں جس سے ان کا مقصد پیسہ کمانا ہوتا ہے۔ایسے وی پی اینز کی سروسز انتہائی غیر معیاری ہوتی ہیں اور وہ پیسے کی خاطر یوزرز کا ڈیٹا کسی کو بھی بیچ سکتے ہیں لہٰذا ان سے محتاط رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جیسے کہ اکاؤنٹس کا ہیک ہو جانا یا پاسورڈز کا چوری ہو جانا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پیڈ وی پی اینز کا معاملہ دراصل یہ ہے کہ جتنا بھی ڈیٹا ہوتا ہے وہ ان وی پی این کمپنیوں کے سرور کے ذریعے راؤٹ ہو رہا ہوتا ہے اور جب ڈیٹا ان سرورز کے ذریعے سے ہوتا ہوا اپنی لوکیشن پر جاتا ہے تو وہ وی پی این فراہم کرنے والی ان کمپنیوں کے پاس بھی جا رہا ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں بہت ہی آرام سے ڈیٹا یا پھر اکاؤنٹس ہیک ہو سکتے ہیں اور کوئی فائل، پاسورڈ، فنانشل ڈیٹا یا جو کچھ بھی آپ ان وی پی اینز کی مدد سے کھولتے ہیں تو وہ ڈیٹا ان کے پاس چلا جاتا ہے اور لیک ہوجاتا ہے جو پھر ڈارک ویب اور ہیکرز تک پہنچ سکتا ہے جس سے آپ کو مالی، سماجی اور ذاتی نقصان ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ جتنی بھی کمپنیاں مفت وی پی این مہیا کر رہی ہوتی ہیں اس سے وہ کوئی نہ کوئی فائدہ بھی حاصل کر رہی ہوتی ہیں اور بعض اقات فون یا کمپیوٹر میں وائرس خودبخود بھی گھس جاتا ہے جس سے بعد میں بھی ڈیٹا ہیک ہو سکتا ہے۔ یہ تمام نقصانات کسی بھی انسان کو ان پیڈ وی پی اینز کے استعمال سے ہو سکتے ہیں۔ سوائے 4 سے 5 بڑی کمپنیوں کے جن کے وی پی اینز قابل اعتماد ہیں جن کی سبسکرپشن کی اچھی خاصی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationچیونگم کو نگلنا خطرناک اور غیر معمولی طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، ماہرین مسافر طیارے اتنی زیادہ بلندی پر کیوں اڑتے ہیں؟