پشاور: خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور ان دنوں شدید ترین سردی کی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، شہر میں درجہ حرارت گر کر منفی 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، جو کہ رواں موسمِ سرما کا کم ترین درجہ حرارت ہے۔ اس شدید سردی اور کہر نے شہریوں کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!سردی کی لہر اور درجہ حرارت کی تفصیلاتمحکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ رات پشاور میں سردی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ درجہ حرارت کے نقطہ انجماد سے نیچے جانے کی وجہ سے صبح کے وقت پودوں اور گاڑیوں پر برف کی باریک تہہ جمی ہوئی دیکھی گئی۔شدید کہر: سردی کے ساتھ ساتھ شہر اور گرد و نواح میں گہری دھند (کہر) چھائی ہوئی ہے، جس کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم رہ گئی ہے۔خشک سردی: بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ خشک سردی لوگوں میں گلے اور سینے کی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔روزمرہ زندگی پر اثراتشدید ٹھنڈ نے پشاور کے باسیوں کے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے:آمد و رفت میں دشواری: صبح کے وقت گہری دھند کی وجہ سے موٹر وے اور دیگر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی سست رہی۔ حکام نے مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔کاروبارِ زندگی: سردی کی شدت کی وجہ سے بازاروں میں رونق کم ہو گئی ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔گیس کا دباؤ: سردی بڑھتے ہی شہر کے کئی علاقوں میں گیس کے دباؤ میں کمی کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس سے ناشتے اور کھانا پکانے میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔محکمہ صحت کی تنبیہطبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس شدید سردی میں خود کو گرم ملبوسات سے ڈھانپ کر رکھیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔ خشک سردی سے بچنے کے لیے قہوہ اور گرم مشروبات کا استعمال بڑھانے کی تاکید کی گئی ہے۔مستقبل کی پیش گوئیمحکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دنوں تک سردی کی یہ لہر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ جب تک باقاعدہ بارش نہیں ہوتی، خشک سردی اور دھند کا سلسلہ اسی طرح جاری رہ سکتا ہے۔ صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بے گھر افراد کے لیے قائم پناہ گاہوں میں حرارت اور خوراک کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں۔اختتامی کلماتپشاور میں درجہ حرارت کا منفی میں جانا اس بات کی علامت ہے کہ اس بار سرما اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ موسم کی سختیوں سے محفوظ رہ سکیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationصوبے میں جدید ٹرین سروس شروع کرنے کا بڑا منصوبہ تیار : عرب لیگ نے سوڈانی حکومت کے نئے امن منصوبے کی حمایت کر دی