پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں عوامی نقل و حمل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بلند بانگ منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف شہروں کو جوڑنے کے لیے “جدید ٹرین سروس” شروع کی جائے گی، جس کا مقصد شہریوں کو سستا، تیز رفتار اور آرام دہ سفر فراہم کرنا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!منصوبے کی اہم خصوصیاتصوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ محض ایک ریلوے لائن نہیں بلکہ صوبے کی معاشی ترقی کا ایک اہم ستون ثابت ہوگا۔پشاور سے مہمند اور نوشہرہ: ابتدائی مرحلے میں ان اضلاع کو ترجیح دی جائے گی جہاں مسافروں کا دباؤ زیادہ ہے۔تیز رفتار انجن: اس سروس کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس انجن اور بوگیاں حاصل کی جائیں گی تاکہ وقت کی بچت ہو سکے۔معیاری اسٹیشنز: ٹرین کے راستوں پر واقع اسٹیشنوں کو عالمی معیار کے مطابق تعمیر یا بحال کیا جائے گا جہاں مسافروں کے لیے تمام بنیادی سہولیات موجود ہوں گی۔معاشی اور سماجی اثراتروزگار کے مواقع: اس بڑے منصوبے کی تعمیر اور آپریشن کے دوران ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ٹریفک کے دباؤ میں کمی: سڑکوں پر گاڑیوں کا رش کم ہوگا جس سے حادثات کی شرح میں کمی آئے گی اور ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔تجارت کا فروغ: ٹرین سروس کے ذریعے اشیائے خوردونوش اور صنعتی مال کی نقل و حمل آسان اور سستی ہو جائے گی، جس سے مقامی تاجروں کو فائدہ پہنچے گا۔فنڈز اور انتظامی ڈھانچہحکومتِ خیبر پختونخوا اس منصوبے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے تعاون حاصل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔نجی شعبے کی شراکت: حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح نجی سرمایہ کاروں کو اس منصوبے کا حصہ بنایا جائے تاکہ مالی بوجھ کم ہو اور سروس کا معیار برقرار رہے۔تکنیکی معائنہ: ماہرین کی ایک ٹیم پٹریوں کی موجودہ حالت اور نئے راستوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عملی کام کا آغاز جلد از جلد کیا جا سکے۔صوبائی قیادت کا وژنوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ “جدید ٹرین سروس” صوبے کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہوگی۔ ان کا موقف ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ریلوے کے نظام کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے کیونکہ یہ عام آدمی کی سواری ہے۔اختتامی کلماتخیبر پختونخوا حکومت کا یہ منصوبہ اگر کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو یہ صوبے کی تاریخ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا۔ عوام نے اس خبر کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ان کی روزمرہ کی سفری مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationڈونلڈ ٹرمپ کے غیر روایتی سفیروں کا انتخاب اور عالمی سیاست پر اثرات درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گر گیا، رواں سال کا سرد ترین دن ریکارڈ