اسلام آباد (نیوز ڈیسک): نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے ملک کے مختلف حصوں میں 12 اپریل سے 17 اپریل 2026 تک بارشوں، گرج چمک اور بعض مقامات پر ژالہ باری کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!موسمیاتی صورتحال کی تفصیلاتمحکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کے مطابق، مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے اثرات درج ذیل علاقوں میں نمایاں ہوں گے:خیبر پختونخوا: چترال، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، دیر، پشاور اور مردان سمیت مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔پنجاب: مری، گلیات، راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد اور سرگودھا میں وقفے وقفے سے بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: ان پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ممکنہ خطرات اور نقصاناتاین ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اس موسمیاتی سلسلے کے دوران درج ذیل خطرات پیدا ہو سکتے ہیں:لینڈ سلائیڈنگ: بالائی علاقوں اور شاہراہوں (بالخصوص شاہراہِ قراقرم) پر تودے گرنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔فصلوں کو نقصان: گندم کی کٹائی کا سیزن ہونے کی وجہ سے تیز ہواؤں اور ژالہ باری سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔فلڈ الرٹ: پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں عارضی طور پر پانی جمع ہونے (Urban Flooding) کے امکانات بھی موجود ہیں۔این ڈی ایم اے کی ہدایاتحکام نے عوام اور سیاحوں کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر جاری کی ہیں:سیاح غیر ضروری سفر بالخصوص پہاڑی علاقوں کی طرف جانے سے گریز کریں۔کسان اپنی فصلوں کی حفاظت کے لیے موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر اقدامات کریں۔بجلی کے کھمبوں، بوسیدہ عمارتوں اور کمزور ڈھانچوں سے دور رہیں۔کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں سے فوری رابطہ کریں۔انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کا حکماین ڈی ایم اے نے تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشینری اور عملے کو ہائی الرٹ رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا جا سکے۔خلاصہ: اپریل کے وسط میں ہونے والی یہ بارشیں جہاں گرمی کی شدت میں کمی لائیں گی، وہیں زراعت اور نقل و حمل کے شعبوں کے لیے چیلنجز بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 17 اپریل تک موسمیاتی اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationپاکستان نے فضائی اور بری فوج سعودی عرب میں تعینات کردی ہنگری کے انتخابات: وکٹر اوربان کے اقتدار کو سخت چیلنج؛ پیٹر مگیار کی عوامی مقبولیت نے سیاسی میدان گرم کر دیا