روس کے افغانستان کے ساتھ نہایت دوستانہ تعلقات تھے۔ دونوں ممالک دفاعی اور فوجی معاہدوں میں بندھے ہوئے تھے، ایسے ہی ایک معاہدے کے تحت روسی فوجیں افغان حکومت کی درخواست پر افغانستان لائی گئی تھیں، جہاں سے وہ خونریز دور شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اب ایک بار پھر روس افغانستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں بندھ گیا ہے۔افغانستان ہے بھی روسی اثر کے علاقے میں۔ حالیہ امریکی مطالبہ کو رد کرتے ہوئے باگرام ائیرپورٹ امریکہ کے حوالے نہ کرکے، افغانستان نے روس اور چین کے ہاں اپنی اہمیت اور افادیت ثابت کردی ہے۔ جس کے بعد دونوں ممالک کا افغانستان کے ساتھ پر اعتماد دوستانہ تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ امریکہ کو انکار اور پاکستان کے ساتھ مخاصمت نے افغانستان کیلئے بھی زیادہ مواقع باقی نہیں چھوڑے تھے، جس کی وجہ سے اسکا رخ اپنے مشرقی ہمسایہ سے مغربی ہمسایوں کی طرف ہونا لازمی تھا۔طالبان ماضی کا تاریخی بوجھ لیکر چلنے کی بجائے حقیقت پسندانہ سیاسی اور سفارتی اپروچ رکھنے میں زیادہ مستعدی دکھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ حملہ آور امریکہ سے صلح کرلی ہے اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، جس کے ساتھ ان کا براہ راست گرم ٹاکرہ ہوا ہے، تو روس کے ساتھ معاملہ کرنے میں ان کو کوئی دقت نہیں ہوگی، جس نے ان کی حکومت سرکاری طور پر تسلیم کی ہوئی ہے اور جو کوشش کر رہا ہے کہ ان کے منجمد اثاثے واگذار کرالیں۔روس اور افغانستان کے درمیان حالیہ فوجی اور تکنیکی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ماسکو انٹرنیشنل سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو کے درمیان ہونے والے اس معاہدے نے خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی صف بندی کو ایک نئی جہت دی ہے۔روس کی جانب سے طالبان کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے اور طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے بعد، یہ معاہدہ ماسکو اور کابل کے درمیان تعلقات کو محض رسمی سفارت کاری سے نکال کر عملی دفاعی شراکت داری میں تبدیل کر رہا ہے۔اگرچہ دونوں ممالک نے اس ملٹری ٹیکنیکل کوآپریشن ایگریمنٹ کی مکمل تفصیلات عام نہیں کیں ہیں، لیکن افغان فوج کے پاس موجود پرانے روسی ہتھیاروں کی مرمت، پرزہ جات کی فراہمی اور تکنیکی معاونت کیلئے اسے روسی معاونت کی ضرورت ہے۔روس کو افغان بارڈر سے داع ش کے خطرے کی سدباب کیلئے افغانستان کی معاونت اور مربوط انٹلیجنس کی ضرورت ہے۔افغانستان حکومت کے لیے دنیا کی ایک بڑی طاقت کے ساتھ دفاعی معاہدہ، اس کی عالمی تنہائی توڑنے اور اپنی حکومت کو جائز منوانے کا ایک بڑا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان رواں ٹینشن میں روس اور افغانستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرد جنگ اور علاقائی توازن پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، جس سے ایک طرف کابل کے سفارتی اور اسٹریٹجک اعتماد میں اضافہ ہوگا، تو ساتھ افغان حکومت کا بین الاقوامی برادری اور بالخصوص پاکستان کے ساتھ سودے بازی کا معیار مضبوط ہوگا، کیونکہ کابل آگے خود کو پاکستان کے معاشی یا جیوپولیٹیکل دباؤ کے سامنے تنہا محسوس نہیں کرے گا، جس کی وجہ سے وہ ٹیٹی پی یا سرحدی امور پر پاکستان کے مطالبات کے سامنے مزید سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے۔دوسری طرف روس نہیں چاہے گا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان معاملات مزید بگڑ جائے جس سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔طویل مدتی بنیادوں پر روس افغان فوجی معاہدہ، کابل کی سفارتی فتح اور روس کی جیوپولیٹیکل واپسی کا اعلان ہے۔پاکستان کے لیے یہ سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ چیلنج اس طرح کہ کابل اب زیادہ پراعتماد اور سخت ہو سکتا ہے، اور موقع یہ کہ روس کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اپنے سیکیورٹی خدشات کو افغان حکومت سے زیادہ مؤثر انداز میں حل کروانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ پھر روس چین افغانستان اور پاکستان ملکر امریکہ کیلئے اس خطے میں مداخلت کم سے کم تر کرسکتا ہے، جو مستقبل کے امریکہ کے جیو سٹریٹجک مفادات کیلئے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا نیا دھماکہ خیز رخ: ایران کا کویت میں امریکی ایئربیس پر میزائل حملہ، 5 فوجی زخمی، دو ایم کیو-9 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ گرداور اور پٹواری