کویت سٹی / تہران / واشنگٹن (نیوز ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین تزویراتی اور عسکری تناؤ کے درمیان ایک انتہائی تشویشناک اور ہنگامی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ معروف بین الاقوامی معاشی و دفاعی جریدے ‘بلوم برگ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خلیجی ملک کویت میں قائم ایک حساس امریکی فوجی ایئربیس کو اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائل نظام سے نشانہ بنایا ہے۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں کم از کم پانچ امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے اور بھاری مادی نقصان کی اطلاعات ہیں، جس نے خطے میں ایک وسیع البنیاد جنگ کے مہیب خطرات کو جنم دے دیا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!حملے کی تفصیلات اور “فتح” میزائل کا استعمالبلوم برگ کی جانب سے جاری کردہ خصوصی رپورٹ کے مطابق، ایران نے گزشتہ روز کویت میں موجود امریکی فضائی اڈے پر “فتح” (Fattah) نامی انتہائی جدید ترین بیلسٹک میزائل داغا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، “فتح” ایران کا تیار کردہ وہ ہائپرسونک یا جدید بیلسٹک میزائل ہے جو اپنی تیز رفتاری اور فضائی دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے کی صلاحیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میزائل اپنے ہدف پر انتہائی درستی کے ساتھ لگا، جس کے نتیجے میں ایئربیس کے اندر شدید دھماکے ہوئے اور وہاں موجود تنصیبات کو نقصان پہنچا۔جانی و مالی نقصان: امریکی فوجی اور ڈرونز نشانہ بن گئےبین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس غیر معمولی حملے کے اثرات عسکری لحاظ سے کافی شدید رہے ہیں:امریکی فوجیوں کا زخمی ہونا: ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایئربیس پر تعینات کم از کم 5 امریکی فوجی اہلکار میزائل کے دھماکے اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والے ملبے کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کی تباہی: جریدے نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس حملے میں امریکہ کے دو انتہائی مہنگے اور جدید ترین ‘ایم کیو-9 ریپر’ (MQ-9 Reaper) جاسوس ڈرونز کو بھی کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ یا شدید ناکارہ کر دیا گیا ہے، جو خطے میں امریکی فضائی نگرانی کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔سرکاری خاموشی اور آزادانہ تصدیق کا انتظاربلوم برگ کے اس سنسنی خیز دعوے کے باوجود، تاحال واشنگٹن، تہران یا کویت کی حکومتوں کی جانب سے اس واقعے کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ پینٹاگون (امریکی وزارتِ دفاع) اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس حساس معاملے پر فی الحال مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اور خطے میں آزادانہ ذرائع سے اس حملے کی تفصیلی تصدیق کا عمل تاحال جاری ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہائی پروفائل حملوں کی تصدیق میں وقت لگتا ہے کیونکہ دونوں اطراف نقصان اور اس کے بعد کے سفارتی اثرات کا جائزہ لے رہی ہوتی ہیں۔عالمی معیشت اور خطے کی سیکیورٹی پر اثراتآبنائے ہرمز کی بندش اور بحری ناکہ بندی کی حالیہ کشیدگی کے بعد، کویت میں امریکی تنصیبات پر یہ مبینہ حملہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اچھال: کویت اور خلیج کی پٹی دنیا کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا مرکز ہے۔ امریکی ایئربیس پر حملے کی خبر نے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔عسکری ردِعمل کا خطرہ: اگر واشنگٹن اس حملے کی باضابطہ تصدیق کرتا ہے، تو امریکی انتظامیہ پر شدید عوامی اور سیاسی دباؤ آئے گا کہ وہ ایران کے اندرونی اہداف کے خلاف براہِ راست تلافی کی عسکری کارروائی کرے، جس کا نتیجہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی آگ میں دھکیل سکتا ہے جس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationجعلی کرنسی کا انوکھا واقعہ روس کی کابل واپسی